سنن ترمذي
أبواب الوتر— کتاب: صلاۃ وترکے ابواب
باب مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الضُّحَى باب: صلاۃ الضحی (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حدیث نمبر: 473
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ فُلَانِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّهِ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ , وَأَبِي ذَرٍّ , وَعَائِشَةَ , وَأَبِي أُمَامَةَ , وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ , وَابْنِ أَبِي أَوْفَى , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں ، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- انس کی حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں ام ہانی ، ابوہریرہ ، نعیم بن ہمار ، ابوذر ، عائشہ ، ابوامامہ ، عتبہ بن عبد سلمی ، ابن ابی اوفی ، ابو سعید خدری ، زید بن ارقم اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس سیاق و لفظ کے ساتھ یہ حدیث ضعیف ہے نہ کہ نفس چاشت کی صلاۃ، آگے والی حدیث صحیح ہے جس سے آٹھ رکعت چاشت کی صلاۃ کا ثبوت ملتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صلاۃ الضحی (چاشت کی نماز) کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 473]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 473]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سیاق و لفظ کے ساتھ یہ حدیث ضعیف ہے نہ کہ نفس چاشت کی نماز، آگے والی حدیث صحیح ہے جس سے آٹھ رکعت چاشت کی نماز کا ثبوت ملتا ہے۔
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن فلان بن انس مجہول راوی ہے)
1؎:
اس سیاق و لفظ کے ساتھ یہ حدیث ضعیف ہے نہ کہ نفس چاشت کی نماز، آگے والی حدیث صحیح ہے جس سے آٹھ رکعت چاشت کی نماز کا ثبوت ملتا ہے۔
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن فلان بن انس مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 473 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 312 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نفل نماز کا بیان`
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس کسی نے نماز ضحٰی (چاشت کی نماز) کی بارہ رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں محل تعمیر فرمائے گا۔ “
اسے ترمذی نے روایت بھی کیا ہے اور اسے غریب قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 312»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس کسی نے نماز ضحٰی (چاشت کی نماز) کی بارہ رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں محل تعمیر فرمائے گا۔ “
اسے ترمذی نے روایت بھی کیا ہے اور اسے غریب قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 312»
تخریج:
««إسناده ضعيف» أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في صلاة الضحي، حديث: 473 وقال: حديث غريب، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1380.* موسي بن فلان، مجهول (تقريب التهذيب).»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے‘ لہٰذا صلاۃ الضحیٰ کی رکعات کی تعداد زیادہ سے زیادہ آٹھ ہے جو کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث سے ثابت ہے جس کا تذکرہ گزشتہ احادیث میں تفصیل سے گزر چکا ہے‘ بہرحال صلاۃ الضحیٰ کی فضیلت اس کے علاوہ دیگر احادیث سے بھی ثابت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
««إسناده ضعيف» أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في صلاة الضحي، حديث: 473 وقال: حديث غريب، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1380.* موسي بن فلان، مجهول (تقريب التهذيب).»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے‘ لہٰذا صلاۃ الضحیٰ کی رکعات کی تعداد زیادہ سے زیادہ آٹھ ہے جو کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث سے ثابت ہے جس کا تذکرہ گزشتہ احادیث میں تفصیل سے گزر چکا ہے‘ بہرحال صلاۃ الضحیٰ کی فضیلت اس کے علاوہ دیگر احادیث سے بھی ثابت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 312 سے ماخوذ ہے۔