حدیث نمبر: 467
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وتر کا وقت طلوع فجر سے پہلے تک ہے جب فجر طلوع ہو گئی تو ادائیگی وتر کا وقت نکل گیا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب الوتر​ / حدیث: 467
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (2 / 154) ، صحيح أبي داود (1290)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المسافرین 20 (750) ، سنن ابی داود/ الصلاة 343 (1436) ، ( تحفة الأشراف : 8132) ، مسند احمد (2/37، 38) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو " ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر​/حدیث: 467]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وتر کا وقت طلوع فجر سے پہلے تک ہے جب فجر طلوع ہو گئی تو ادائیگی وتر کا وقت نکل گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 467 سے ماخوذ ہے۔