سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلاَثًا باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 46
قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى وَكِيعٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ : حَدَّثَكَ 26 جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً " , قَالَ : نَعَمْ . وحَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ , وَقُتَيْبَةُ , قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّة، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا ، عَنْ ثَابِتٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَكِيعٍ , وَشَرِيكٌ كَثِيرُ الْغَلَطِ ، وَثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ هُوَ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے ، میں نے ابو جعفر ( محمد بن علی بن حسین الباقر ) سے پوچھا کہ` آپ سے جابر رضی الله عنہما نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اور یہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ثابت سے وکیع کی روایت کی طرح اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے ، ۲- اور شریک کثیر الغلط راوی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان۔`
یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے، میں نے ابو جعفر (محمد بن علی بن حسین الباقر) سے پوچھا کہ آپ سے جابر رضی الله عنہما نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 46]
یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے، میں نے ابو جعفر (محمد بن علی بن حسین الباقر) سے پوچھا کہ آپ سے جابر رضی الله عنہما نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 46]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سابقہ ابن عباس کی حدیث اور اس میں مذکور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
نوٹ:
(سابقہ ابن عباس کی حدیث اور اس میں مذکور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 46 سے ماخوذ ہے۔