حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ : حَدَّثَكَ جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً , وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ , وَثَلَاثًا ثَلَاثًا " , قَالَ : نَعَمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ` میں نے ابو جعفر سے پوچھا : کیا جابر رضی الله عنہما نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار ، دو دو بار ، اور تین تین بار دھوئے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں ( بیان کیا ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 45
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (410) ، //، المشكاة (422) ، ضعيف سنن ابن ماجة (91) // , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف جداً / جه 410, ثابت بن أبي صفيه : ضعيف رافضي (تق : 818) وشريك القاضي عنعن (يأتي : 112) و حديث البخاري (159‘158‘157) يعني عن هذا الحديث .
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الطہارة 45 (410) ( تحفة الأشراف : 2592) (ضعیف) (سند میں ابو حمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی، و اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 410

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان​۔`
ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا جابر رضی الله عنہما نے آپ سے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار دھوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (بیان کیا ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 45]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ الثمالی اور شریک بن عبداللہ القاضی دونوں ضعیف ہیں، نیز یہ آگے آنے والی حدیث کے مخالف بھی ہے، جس کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ ہے کہ وہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 45 سے ماخوذ ہے۔