سنن ترمذي
أبواب السهو— کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ اللَّيْلِ باب: قیام اللیل (تہجد) میں قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ ؟ فَقَالَتْ : " كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ بِالْقِرَاءَةِ وَرُبَّمَا جَهَرَ "فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا : رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی کیا آپ قرآن دھیرے سے پڑھتے تھے یا زور سے ؟ کہا : آپ ہر طرح سے پڑھتے تھے ، کبھی سری پڑھتے تھے اور کبھی جہری ، تو میں نے کہا : اللہ کا شکر ہے جس نے دین کے معاملے میں کشادگی رکھی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب السهو / حدیث: 449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (1291)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1663 | سنن ابن ماجه: 1354