حدیث نمبر: 448
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَيْلَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے پڑھتے رہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی: تہجد کی ساری رکعتوں میں صرف یہی ایک آیت دھرا دھرا کر پڑھتے رہے۔ اور وہ آیت کریمہ یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» (سورة المائدة:)، (رواہ النسائی وابن ماجہ)، اے رب کریم! اگر تو ان (میری امت کے اہل ایمان، مسلمانوں) کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں، (سزا دیتے وقت بھی ان پر رحم فرما دینا) اور اگر تو ان کو بخش دے گا تو بلاشبہ تو نہایت غلبے والا اور دانائی والا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب السهو / حدیث: 448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیام اللیل (تہجد) میں قرأت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے پڑھتے رہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 448]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی: تہجد کی ساری رکعتوں میں صرف یہی ایک آیت دہرا دہرا کر پڑھتے رہے۔
اور وہ آیت کریمہ یہ تھی: ﴿إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: ] (رواہ النسائی وابن ماجہ)، ’’اے رب کریم! اگر تو ان (میرے امت کے اہلِ ایمان، مسلمانوں) کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں، (سزا دیتے وقت بھی ان پر رحم فرما دینا) اور اگر تو ان کو بخش دے گا تو بلاشبہ تو نہایت غلبے والا اور دانائی والا ہے‘‘۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 448 سے ماخوذ ہے۔