سنن ترمذي
أبواب السهو— کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ باب: عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 430
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب (سنن موکدہ) میں سے نہیں ہیں، بلکہ سنن غیر موکدہ میں سے ہیں، تاہم ان کے پڑھنے والے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت کی دعا کرنے سے ان کی اہمیت واضح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 430]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 430]
اردو حاشہ:
1؎:
نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب (سنن مؤکدہ) میں سے نہیں ہیں، بلکہ سنن غیر مؤکدہ میں سے ہیں، تاہم ان کے پڑھنے والے کے لیے نبی اکرم ﷺ کے رحمت کی دعا کرنے سے ان کی اہمیت واضح ہے۔
1؎:
نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب (سنن مؤکدہ) میں سے نہیں ہیں، بلکہ سنن غیر مؤکدہ میں سے ہیں، تاہم ان کے پڑھنے والے کے لیے نبی اکرم ﷺ کے رحمت کی دعا کرنے سے ان کی اہمیت واضح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 430 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 285 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نفل نماز کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے نماز عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔ “
اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 285»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے نماز عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔ “
اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 285»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الصلاة قبل العصر، حديث:1271، والترمذي، الصلاة، حديث:430، وأحمد:2 /117، وابن خزيمة:2 /206، حديث:1193.»
تشریح: نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب (مؤکدہ سنتیں) تو نہیں لیکن ہیں بہت زیادہ فضیلت کی حامل۔
ان چار رکعتوں کا اہتمام کرنے والے شخص کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعائیہ کلمات رَحِمَ اللّٰـہُ امْرَأً ہی ان رکعتوں کی بہت زیادہ فضیلت پر دلالت کرتے ہیں‘ یعنی جو شخص یہ چار رکعتیں پڑھے اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الصلاة قبل العصر، حديث:1271، والترمذي، الصلاة، حديث:430، وأحمد:2 /117، وابن خزيمة:2 /206، حديث:1193.»
تشریح: نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب (مؤکدہ سنتیں) تو نہیں لیکن ہیں بہت زیادہ فضیلت کی حامل۔
ان چار رکعتوں کا اہتمام کرنے والے شخص کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعائیہ کلمات رَحِمَ اللّٰـہُ امْرَأً ہی ان رکعتوں کی بہت زیادہ فضیلت پر دلالت کرتے ہیں‘ یعنی جو شخص یہ چار رکعتیں پڑھے اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 285 سے ماخوذ ہے۔