حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ هُوَ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، وَهُوَ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى هَمَّامٌ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ۳- ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے ، ۴- ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ہمام بن یحییٰ اور عامر الاحول دونوں سے وہم ہو جایا کرتا تھا، تو ایسا نہ ہو کہ اس روایت میں ان دونوں میں سے کسی سے وہم ہو گیا ہو اور بجائے دو دو کے تین تین روایت کر دی ہو، ویسے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ایک دوسری (ضعیف) سند سے ابن ماجہ (رقم: ۴۱۵) میں ایسی ہی روایت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 43
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، صحيح أبي داود (125)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 52 (136) ( تحفة الأشراف : 13940) (حسن صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 136 | سنن ابي داود: 140 | صحيح مسلم: 237 | سنن ابن ماجه: 445 | سنن نسائي: 86 | صحيفه همام بن منبه: 82

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اعضائے وضو کے دو دو بار دھونے کا بیان​۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 43]
اردو حاشہ:
1؎:
ہمام بن یحییٰ اورعامر الأحول دونوں سے وہم ہو جایا کرتا تھا، تو ایسا نہ ہو کہ اس روایت میں ان دونوں میں سے کسی سے وہم ہو گیا ہو اور بجائے دو دو کے تین تین روایت کردی ہو، ویسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری (ضعیف) سند سے ابن ماجہ (رقم: 415) میں ایسی ہی روایت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 43 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 140 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ناک میں پانی ڈالنا اور اسے صاف کرنا`
«. . . أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر جھاڑے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 140]
فوائد و مسائل:
ناک میں پانی ڈالنا اور اسے صاف کرنا وضو کے واجبات سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 140 سے ماخوذ ہے۔