سنن ترمذي
أبواب السهو— کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ لاَ صَلاَةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ "وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّمَا يَقُولُ : لَا صَلَاةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ ، وَحَفْصَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى ، وَرَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَهُوَ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” طلوع فجر کے بعد سوائے دو رکعت ( سنت فجر ) کے کوئی نماز نہیں “ ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد ( فرض سے پہلے ) سوائے دو رکعت سنت کے اور کوئی نماز نہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عمر کی حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف قدامہ بن موسیٰ ہی کے طریق سے جانتے ہیں اور ان سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور حفصہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ، ۳- اور یہی قول ہے جس پر اہل علم کا اجماع ہے : انہوں نے طلوع فجر کے بعد ( فرض سے پہلے ) سوائے فجر کی دونوں سنتوں کے کوئی اور نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: " طلوع فجر کے بعد سوائے دو رکعت (سنت فجر) کے کوئی نماز نہیں۔" اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد (فرض سے پہلے) سوائے دو رکعت سنت کے اور کوئی نماز نہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 419]
1؎:
یعنی: مستقل طور پر کوئی سنت نفل اس درمیان ثابت نہیں، ہاں اگر کوئی گھر سے فجر کی سنتیں پڑھ کر مسجد آتا ہے، اور جماعت میں ابھی وقت باقی ہے تو دو رکعت بطور تحیۃ المسجد کے پڑھ سکتا ہے، بلکہ پڑھنا ہی چاہیے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر (طلوع) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو۔" [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1278]
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے، اس سے معلوم ہوا کہ طلوع فجر کے بعد فرضوں سے پہلے صرف دو رکعت سنتیں ہی پڑھی جائیں۔ تاہم رات کے وتر دن چڑھے پڑھنا مشکل ہوں تو اس وقت میں ادائیگی جائز ہے، جیسے کہ سببی نماز کا مسئلہ ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے، گویا کہ آپ اقامت سن رہے ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1144]
فوائد و مسائل:
(1)
نماز ہلکی پڑھنے کا یہ مطلب نہیں کہ رکوع اور سجود اطمینان سے ادا نہ کیے جایئں۔
بلکہ تسبیحات کی تعداد اور تلاوت کی مقدار میں کمی مراد ہے۔
(2)
رسول اللہ ﷺ فجر کی سنتوں میں ﴿سوره...قل ياايهاالكافرون﴾ اور ﴿سوره ...قل هوالله احد﴾ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
او ر یہ سب سے مختصر سورتوں میں سے ہیں۔ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب رکعتي سنة الفجر...، حدیث: 726 وسنن ابن ماجه، حدیث: 1150، 1148)
بعض اوقات ان رکعتوں میں قدرے طویل قراءت بھی کرلیتے تھے۔ (صحیح مسلم حوالہ مذکور بالا)
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: لا صلاة بعد الفجر إلا سجدتين . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "فجر (کی فرض نماز) کے بعد صرف دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی (نفل) نماز نہیں . . ." [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 142]
«لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ» «بَعْدَ الْفَجْرِ» سے مراد طلوع فجر ہے۔
«إِلَّا سَجْدَتَيْنِ» یہاں سجدتین کے معنی رکعتیں ہیں اور ایک نسخہ میں سجدتین کی جگہ رکعتین ہے۔ ان دو رکعتوں سے فجر کی دو سنتیں مراد ہیں۔
فائدہ:
مذکورہ روایات کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور ابوداود کی تحقیق میں لکھا ہے کہ اس مسئلے کی بابت صحیح مسلم کی روايت: [723] کفایت کرتی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے شیخ البانی رحمہ اللہ اور دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ طلوع فجر کے بعد فرضوں سے پہلے صرف دو رکعت سنتیں ہی پڑھی جائیں۔