سنن ترمذي
أبواب السهو— کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ مِنَ الْفَضْلِ باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثَ عَائِشَةَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” فجر کی دونوں رکعتیں دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے ان سب سے بہتر ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں علی ، ابن عمر ، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ جنہیں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ان میں پڑھتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1760 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کی محافظت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فجر کی دونوں رکعتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1760]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فجر کی دونوں رکعتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1760]
1760۔ اردو حاشیہ: دنیا فانی ہے اور آخرت کا ثواب باقی، لہٰذا ان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں، یعنی فجر کی دو سنتوں کا ثواب اس بات سے بہتر ہے کہ اسے ساری دنیا دے دی جائے، لہٰذا انہیں سفر میں بھی نہ چھوڑا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1760 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 725 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’فجر کی دو رکعت (سنت) دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1688]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں فجر کی دو رکعت سنت کا اہتمام اور پابندی اس قدر اجرو ثواب کا باعث ہے کہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے۔
اس سب سے زیادہ قیمتی اور مفید ہے کیونکہ دنیاو مافیہا سب عارضی اور فانی ہیں اور آخرت کا اجرو ثواب باقی اور غیر فانی ہے۔
اس سب سے زیادہ قیمتی اور مفید ہے کیونکہ دنیاو مافیہا سب عارضی اور فانی ہیں اور آخرت کا اجرو ثواب باقی اور غیر فانی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 725 سے ماخوذ ہے۔