حدیث نمبر: 411
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ الْبَلْخِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ، فَانْتَهَوْا إِلَى مَضِيقٍ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَمُطِرُوا السَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَالْبِلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ " فَأَذَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَقَامَ أَوْ أَقَامَ فَتَقَدَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى بِهِمْ يُومِئُ إِيمَاءً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ الْبَلْخِيُّ ، لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ صَلَّى فِي مَاءٍ وَطِينٍ عَلَى دَابَّتِهِ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَبِهِ يَقُولُ : أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` وہ لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، وہ ایک تنگ جگہ پہنچے تھے کہ نماز کا وقت آ گیا ، اوپر سے بارش ہونے لگی ، اور نیچے کیچڑ ہو گئی ، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی سواری ہی پر اذان دی اور اقامت کہی اور سواری ہی پر آگے بڑھے اور انہیں نماز پڑھائی ، آپ اشارہ سے نماز پڑھتے تھے ، سجدہ میں رکوع سے قدرے زیادہ جھکتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، عمر بن رماح بلخی اس کے روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔ یہ صرف انہیں کی سند سے جانی جاتی ہے ۔ اور ان سے یہ حدیث اہل علم میں سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے ، ۲- انس بن مالک سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے پانی اور کیچڑ میں اپنی سواری پر نماز پڑھی ، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے ۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جب ایسی صورت حال پیش آ جائے اور دوسری جگہ وقت کے اندر ملنے کا امکان نہ ہو تو نماز کا قضاء کرنے سے بہتر اس طرح سے نماز ادا کر لینا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب السهو / حدیث: 411
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (411) إسناده ضعيف, عمرو بن عثمان بن يعلي مستور و أبوه :مجھول (تق:5079 ، 4529)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11851) (ضعیف الإسناد) (سند میں ’’ عمروبن عثمان ‘‘ مجہول الحال اور عثمان بن یعلی ‘‘ مجہول العین ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کیچڑ اور بارش میں سواری پر نماز پڑھ لینے کا بیان۔`
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ ایک تنگ جگہ پہنچے تھے کہ نماز کا وقت آ گیا، اوپر سے بارش ہونے لگی، اور نیچے کیچڑ ہو گئی، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی سواری ہی پر اذان دی اور اقامت کہی اور سواری ہی پر آگے بڑھے اور انہیں نماز پڑھائی، آپ اشارہ سے نماز پڑھتے تھے، سجدہ میں رکوع سے قدرے زیادہ جھکتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 411]
اردو حاشہ:
1؎:
جب ایسی صورت حال پیش آ جائے اور دوسری جگہ وقت کے اندر ملنے کا امکان نہ ہو تو نماز کا قضا کرنے سے بہتر اس طرح سے نماز ادا کر لینا ہے۔

نوٹ:
(سند میں ’’عمرو بن عثمان‘‘ مجہول الحال اور ’’عثمان بن یعلی‘‘ مجہول العین ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 411 سے ماخوذ ہے۔