حدیث نمبر: 40
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْفِهْرِيِّ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ دَلَكَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اپنے «خنصر» ( ہاتھ کی چھوٹی انگلی ) سے ملتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اسے ہم صرف ابن لھیعہ کے طریق ہی سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 40
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (446)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 58 (148) سنن ابن ماجہ/الطہارة 54 (446) ( تحفة الأشراف : 11256) مسند احمد (4/229) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 148 | سنن ابن ماجه: 446

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​۔`
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اپنے «خنصر» (ہاتھ کی چھوٹی انگلی) سے ملتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 40 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 148 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پاؤں کی انگلیوں کا خلال`
«. . . عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يَدْلُكُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ . . .»
. . . مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو چھنگلیا (ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی) سے ملتے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 148]
فوائد و مسائل:
معلوم ہوا کہ پاؤں کی انگلیوں کا خلال بھی کرنا چاہیے تاکہ کسی جگہ کے خشک رہنے کا احتمال نہ رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 148 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 446 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´انگلیوں کے درمیان خلال کا بیان۔`
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنی سب سے چھوٹی انگلی سے اپنے پیروں کی انگلیوں کا خلال کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 446]
اردو حاشہ:
ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان بعض اوقات پانی اچھی طرح نہ پہنچنے کی وجہ سے جگہ خشک رہ جاتی ہے اس لیےان کا خلال کرنا چاہیے۔
ہاتھوں کی انگلیوں کے خلال کا ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 446 سے ماخوذ ہے۔