حدیث نمبر: 3962
قَالَ يَحْيَى: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لاأَدْرِي أَيُّهُمَا أَعْجَبُ أَمْرًا؟.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : میں نے اپنے جی میں کہا : مجھے نہ معلوم ہو سکا کہ دونوں صورتوں میں کون زیادہ تعجب خیز بات ہے ۔

وَقَالَ عَلِيٌّ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ عَنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِيِّ؟ فَقَالَ: ضَعِيفٌ؛ فَقُلْتُ: إِنَّهُ يَقُولُ: "أَخْبَرَنِي"! فَقَالَ: لا شَيْئَ، إِنَّمَا هُوَ كِتَابٌ دَفَعَهُ إِلَيْهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے ابن جریج کی عطا خراسانی سے روایت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : ضعیف ہے ، میں نے کہا : وہ «أخبرنی» کہتے ہیں ، کہا : بیکار بات ہے ، یہ صرف کتاب ہے جو عطا نے ابن جریج کو دے دی تھی ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْحَدِيثُ إِذَا كَانَ مُرْسَلا؛ فَإِنَّهُ لا يَصِحُّ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، قَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : جب حدیث مرسل ہو تو وہ اہل حدیث کی اکثریت کے نزدیک صحیح نہیں ہے ، کئی ائمہ حدیث نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ قَالَ: سَمِعَ الزُّهْرِيُّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ يَقُولُ: "قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: قَاتَلَكَ اللَّهُ يَا ابْنَ أَبِي فَرْوَةَ! تَجِيئُنَا بِأَحَادِيثَ لَيْسَتْ لَهَا خُطُمٌ وَلا أَزِمَّةٌ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عتبہ بن ابی حکیم کہتے ہیں : زہری نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ کو «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم» کہتے سنا تو کہا : اے ابن فروہ ! اللہ تم سے جنگ کرے ، تم ایسی حدیث ہمارے پاس لے کر آئے ہو جس کی نکیل ہے نہ لگام ( جس کا نہ سر نہ پیر ) ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: مُرْسَلاتُ مُجَاهِدٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُرْسَلاتِ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ بِكَثِيرٍ، كَانَ عَطَائٌ يَأْخُذُ عَنْ كُلِّ ضَرْبٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی سے روایت ہے کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں : میرے نزدیک مجاہد کی مراسیل ؛ عطاء بن ابی رباح کی مراسیل سے زیادہ پسندیدہ ہیں ، عطا سب سے روایت کرتے تھے ۔

قَالَ عِلِيٌّ: قَالَ يَحْيَى: مُرْسَلاتُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُرْسَلاتِ عَطَائٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : میرے نزدیک سعید بن جبیر کی مراسیل عطاء کی مراسیل سے زیادہ پسندیدہ ہیں ۔

قُلْتُ لِيَحْيَى: مُرْسَلاتُ مُجَاهِدٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مُرْسَلاتُ طَاوُسٍ؟ قَالَ: مَا أَقْرَبَهُمَا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے پوچھا : مجاہد کی مراسیل آپ کے نزدیک زیادہ اچھی ہیں یا طاؤس کی ؟ کہا : دونوں قریب قریب ہیں ۔

قَالَ عَلِيٌّ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: مُرْسَلاتُ أَبِي إِسْحَاقَ عِنْدِي شِبْهُ لا شَيْئَ، وَالأَعْمَشُ، وَالتَّيْمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَمُرْسَلاتُ ابْنِ عُيَيْنَةَ شِبْهُ الرِّيحِ، ثُمَّ قَالَ: إِي وَاللَّهِ! وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان کو کہتے سنا : ابواسحاق سبیعی کی مراسیل میرے نزدیک تقریباً کچھ بھی نہیں ہیں ، ایسے ہی اعمش ، تیمی ، یحییٰ بن ابی کثیر ، اور ابن عیینہ کی مراسیل سب ہوا کی مانند ہیں ، پھر کہا : ہاں ، اللہ کی قسم ! اور سفیان بن سعید ثوری کی مراسیل بھی ۔

قُلْتُ لِيَحْيَى: فَمُرْسَلاتُ مَالِكٍ؟ قَالَ: هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: لَيْسَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ مَالِكٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے پوچھا : آپ مالک کی مراسیل کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ کہا : یہ مجھے زیادہ پسند ہیں ، پھر یحییٰ بن سعیدالقطان نے کہا : رواۃ حدیث میں مالک سے زیادہ کسی کی حدیث صحیح نہیں ہے ۔

حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ يَقُولُ: مَا قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: "قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِلا وَجَدْنَا لَهُ أَصْلا إِلا حَدِيثًا أَوْ حَدِيثَيْنِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ سوار بن عبداللہ عنبری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ القطان کو کہتے سنا : حسن بصری اپنی روایت میں جب «قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم» کہتے ہیں تو ایک یا دو حدیث کے علاوہ مجھے ان کی ساری احادیث کی اصل مل گئی ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَنْ ضَعَّفَ الْمُرْسَلَ؛ فَإِنَّهُ ضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ هَؤُلائِ الأَئِمَّةَ قَدْ حَدَّثُوا عَنْ الثِّقَاتِ وَغَيْرِ الثِّقَاتِ؛ فَإِذَا رَوَى أَحَدُهُمْ حَدِيثًا، وَأَرْسَلَهُ؛ لَعَلَّهُ أَخَذَهُ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ. قَدْ تَكَلَّمَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، ثُمَّ رَوَى عَنْهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : اور مرسل کو ضعیف کہنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ ان ائمہ نے ثقہ اور غیر ثقہ ہر طرح کے رواۃ سے روایت کی ہے ، تو جب ایک راوی نے نے کوئی حدیث روایت کی اور اس کو مرسل بیان کیا تو ہو سکتا ہے کہ اس نے غیر ثقہ راوی سے اس کی روایت کی ہو چنانچہ حسن بصری نے معبد جہنی پر جرح کی پھر اس سے روایت کی ۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبِي وَعَمِّي قَالا: سَمِعْنَا الْحَسَنَ يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَمَعْبَدًا الْجُهَنِيَّ؛ فَإِنَّهُ ضَالٌّ مُضِلٌّ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ مرحوم بن عبدالعزیز العطار کے والد اور چچا کہتے ہیں کہ ہم نے حسن بصری کو کہتے سنا : تم معبد جہنی سے بچو ، کیونکہ وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا سے ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الأَعْوَرُ، وَكَانَ كَذَّابًا. وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ، وَأَكْثَرُ الْفَرَائِضِ الَّتِي يَرْوِيهَا عَنْ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ هِيَ عَنْهُ. وَقَدْ قَالَ الشَّعْبِيُّ: الْحَارِثُ الأَعْوَرُ عَلَّمَنِي الْفَرَائِضَ، وَكَانَ مِنْ أَفْرَضِ النَّاسِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : شعبی سے منقول ہے کہ حارث اعور نے ہم سے حدیث روایت کی اور وہ کذاب تھا ، اور اس سے شعبی نے بھی روایت کی ہے ، فرائض کے باب میں علی وغیرہ سے ان کی اکثر روایات کا مصدر حارث اعور ہی ہے ۔ اور شعبی کا قول ہے کہ حارث اعور نے مجھے علم فرائض سکھائے ، حارث علم فرائض میں سب سے ماہر آدمی تھے ۔

قَالَ: و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: أَلا تَعْجَبُونَ مِنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ! لَقَدْ تَرَكْتُ لِجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ بِقَوْلِهِ؛ لَمَّا حَكَى عَنْهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ، ثُمَّ هُوَ يُحَدِّثُ عَنْهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : کیا تم سفیان بن عیینہ پر تعجب نہیں کرو گے ، جابر جعفی نے جب ہزار سے زیادہ احادیث ان سے بیان کیں تو میں نے اس کو ان کے کہنے کی وجہ سے ترک کر دیا ، پھر وہ اس سے روایت کرتے ہیں ۔

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: وَتَرَكَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ محمد بن بشار کہتے ہیں : عبدالرحمٰن بن مہدی نے جابر جعفی کو چھوڑ دیا ۔

وَقَدْ احْتَجَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْمُرْسَلِ أَيْضًا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ بعض اہل علم نے مرسل کو حجت مانا ہے ۔

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ابْنُ أَبِي السَّفَرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ قَالَ: قُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ: أَسْنِدْ لِي عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: إِذَا حَدَّثْتُكَ "عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِاللَّهِ"؛ فَهُوَ الَّذِي سَمَّيْتُ، وَإِذَا قُلْتُ، "قَالَ عَبْدُاللَّهِ": فَهُوَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِاللَّهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ سلیمان بن مہران اعمش کہتے ہیں : میں نے ابراہیم نخعی سے کہا کہ آپ عبداللہ بن مسعود کی سند بیان کیجئے تو انہوں نے کہا : جب میں تم سے کہوں : «حدثنا رجل عن عبداللہ بن مسعود» ( ہم سے ایک آدمی نے بیان کہ اس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ) تو یہ ایسی سند ہے جس میں میں نے راوی کا نام لیا ہے ، اور جب میں کہوں : «قال عبداللہ» تو وہ کئی رواۃ ہیں جنہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ اخْتَلَفَ الأَئِمَّةُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَضْعِيفِ الرِّجَالِ كَمَا اخْتَلَفُوا فِي سِوَى ذَلِكَ مِنْ الْعِلْمِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : اہل علم کے نزدیک رواۃ کی تضعیف میں اختلاف ہے جیسے دوسرے علوم و فنون میں علماء کا اختلاف ہے ،

ذُكِرَ عَنْ شُعْبَةَ أَنَّهُ ضَعَّفَ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، وَعَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَحَكِيمَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَتَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُمْ، ثُمَّ حَدَّثَ شُعْبَةُ عَمَّنْ هُوَ دُونَ هَؤُلائِ فِي الْحِفْظِ وَالْعَدَالَةِ، حَدَّثَ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِمَّنْ يُضَعَّفُونَ فِي الْحَدِيثِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ شعبہ سے آیا ہے کہ انہوں نے ابوالزبیر مکی ، عبدالملک بن ابی سلیمان ، اور حکیم بن جبیر کی تضعیف کی ، اور ان سے روایت ترک کر دی ، پھر شعبہ نے حفظ و عدالت میں ان سے کم درجے کے رواۃ سے روایت کی ، یعنی جابر جعفی ، ابراہیم بن مسلم ہجری ، محمد بن عبیداللہ العرزمی اور کئی راوی جو حدیث میں ضعیف قرار دیے گئے ہیں سے روایت کی ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: تَدَعُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَتُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ امیہ بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ سے کہا : آپ عبدالملک بن ابی سلیمان کو چھوڑ کر محمد بن عبیداللہ عرزمی سے روایت کرتے ہیں ؟ کہا : ہاں ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ كَانَ شُعْبَةُ حَدَّثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثُمَّ تَرَكَهُ، وَيُقَالُ: إِنَّمَا تَرَكَهُ لَمَّا تَفَرَّدَ بِالْحَدِيثِ الَّذِي رَوَى عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الرَّجُلُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ بِهِ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : شعبہ نے پہلے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی پھر انہیں چھوڑ دیا ، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے چھوڑنے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے بسند «عطاء بن ابی رباح عن جابر بن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم» یہ حدیث روایت کی : «الرَّجُلُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ بِهِ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا» ۔

وَقَدْ ثَبَّتَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ، وَحَدَّثُوا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُليْمَانَ، وَحَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ اور کئی ائمہ ابوالزبیر مکی ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور حکیم بن جبیر کی توثیق کی ، اور ان سے روایت کی ۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ تَذَاكَرْنَا حَدِيثَهُ، وَكَانَ أَبُوالزُّبَيْرِ أَحْفَظَنَا لِلْحَدِيثِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں : ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس سے نکل کر آپ کی احادیث کا مذاکرہ کیا ، تو ابوالزبیر ان احادیث کے سب سے زیادہ حافظ تھے ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُوالزُّبَيْرِ: كَانَ عَطَائٌ يُقَدِّمُنِي إِلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَحْفَظُ لَهُمْ الْحَدِيثَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ابوالزبیر کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے آگے کرتے تھے ، تاکہ میں ان کے لیے حدیث یاد کر لوں ۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُوالزُّبَيْرِ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، وَأَبُوالزُّبَيْرِ، قَالَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ يَقْبِضُهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: إِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ الإِتْقَانَ وَالْحِفْظَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ایوب سختیانی کہتے ہیں : ہم سے ابوالزبیر نے حدیث بیان کی ، اور ابوالزبیر اور ابوالزبیر ، اور ابوالزبیر سفیان ثوری اپنا ہاتھ پکڑ کر یہ کہہ رہے تھے ۔ ترمذی کہتے ہیں : سفیان بن عیینہ اس کلام سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حفظ حدیث اور روایت حدیث میں ابوالزبیر قوی اور پختہ ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: 3962