حدیث نمبر: 3961
قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ شُعْبَةُ أَعْلَمَ بِالرِّجَالِ فُلانٌ عَنْ فُلانٍ، وَكَانَ سُفْيَانُ صَاحِبَ أَبْوَابٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ یحیی القطان کہتے ہیں : شعبہ رواۃ حدیث یعنی کون راوی کس سے روایت کرتا ہے کے سب سے بڑے ماہر عالم تھے ، اور سفیان ثوری فقہی ابواب کے ماہر تھے ۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: الأَئِمَّةُ فِي الأَحَادِيثِ أَرْبَعَةٌ: سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالأَوْزَاعِيُّ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں کہ میں نے ابن مہدی کو کہتے سنا : ائمہ حدیث چار ہیں : سفیان ثوری ، مالک بن انس ، اوزاعی اور حماد بن زید ۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَال سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: قَالَ شُعْبَةُ: سُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنِّي، مَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ شَيْخٍ بِشَيْئٍ فَسَأَلْتُهُ إِلا وَجَدْتُهُ كَمَا حَدَّثَنِي.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ وکیع کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ کو کہتے سنا : سفیان ثوری مجھ سے زیادہ حدیث کے حافظ ہیں ، سفیان ثوری نے ہم سے جب بھی کسی شیخ کی حدیث روایت کی تو میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا ، تو پایا کہ وہ ویسے ہی تھی جیسے مجھ سے بیان کیا تھا ۔

سَمِعْت إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى الأَنْصَارِيَّ، قَال: سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ عِيسَى الْقَزَّازَ يَقُولُ: كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشَدِّدُ فِي حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَائِ وَالتَّائِ وَنَحْوِهِمَا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ معن بن عیسیٰ القزاز کہتے ہیں : مالک بن انس حدیث رسول کی روایت میں سختی کرتے تھے ، ی ، ت وغیرہ الفاظ تک میں ۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ قُرَيْمٍ الأَنْصَارِيُّ قَاضِي الْمَدِينَةِ، قَالَ: مَرَّ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَلَى أَبِي حَازِمٍ وَهُوَ جَالِسٌ؛ فَجَازَهُ فَقِيلَ لَهُ: لِمَ لَمْ تَجْلِسْ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَجِدْ مَوْضِعًا أَجْلِسُ فِيهِ، وَكَرِهْتُ أَنْ آخُذَ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ قاضی مدینہ ابراہیم بن عبداللہ بن قریم انصاری کہتے ہیں : امام مالک کا گزر ابوحازم پر ہوا تو وہ بیٹھے تھے ، آگے گزر گئے ، تو ان سے کہا گیا کہ آپ کیوں نہیں بیٹھے ؟ کہا : مجھے بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ملی تو میں نے یہ بات ناپسندیدہ سمجھی کہ حدیث رسول کھڑے کھڑے سنوں ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: "مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ" أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ "سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : ” بسند مالک عن سعید بن المسیب “ روایت کردہ حدیث مجھے ” سفیان ثوری عن ابراہیم نخعی “ سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔

قَالَ يَحْيَى: مَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، كَانَ مَالِكٌ إِمَامًا فِي الْحَدِيثِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : جماعت محدثین میں مالک سے زیادہ صحیح حدیث والا کوئی نہیں ، مالک امام حدیث تھے ۔

سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ احمد بن الحسن کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا : میں نے یحییٰ بن سعید القطان کے ہم مثل کسی کو نہیں دیکھا ۔

قَالَ أَحْمَدُ بن الحسن : وَسُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ وَكِيعٍ وَعَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ فَقَالَ أَحْمَدُ: وَكِيعٌ أَكْبَرُ فِي الْقَلْبِ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ إِمَامٌ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ احمد بن الحسن کہتے ہیں : احمد بن حنبل سے وکیع اور عبدالرحمٰن بن مہدی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے کہا : وکیع بن جراح دل کے ( یعنی ورع ، تقویٰ ، زہد ، عبادت اور ریاضت میں ) بڑے ہیں ، اور عبدالرحمٰن بن مہدی امام ہیں ۔

سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيَّ الْبَصْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: لَوْ حُلِّفْتُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ لَحَلَفْتُ أَنِّي لَمْ أَرَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : اگر رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان مجھ سے حلف لیا جائے تو میں قسم کھا سکتا ہوں کہ میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی سے بڑا عالم نہیں دیکھا ہے ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْكَلامُ فِي هَذَا وَالرِّوَايَةُ عَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَكْثُرُ، وَإِنَّمَا بَيَّنَّا شَيْئًا مِنْهُ عَلَى الاخْتِصَارِ لِيُسْتَدَلَّ بِهِ عَلَى مَنَازِلِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَتَفَاضُلِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحِفْظِ وَالإِتْقَانِ، وَمَنْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لأَيِّ شَيْئٍ تُكُلِّمَ فِيهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : رواۃ حدیث کے بارے میں کلام ، اور اہل علم سے اس موضوع پر روایات بہت ساری ہیں ، ہم نے مختصراً کچھ باتیں ذکر کر دی ہیں ، تاکہ اس سے اہل علم کے مراتب اور ان کے مابین حفظ و اتقان میں تفاوت اور فرق پر استدلال کیا جا سکے ، اور یہ جانا جا سکے کہ اہل علم نے جن رواۃ پر کلام کیا ہے ، اس کے اسباب کیا ہیں ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْقِرَائَةُ عَلَى الْعَالِمِ إِذَا كَانَ يَحْفَظُ مَا يُقْرَأُ عَلَيْهِ أَوْ يُمْسِكُ أَصْلَهُ فِيمَا يُقْرَأُ عَلَيْهِ إِذَا لَمْ يَحْفَظْ هُوَ صَحِيحٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِثْلُ السَّمَاعِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : عالم پر حدیث پڑھنا اگر وہ ان پڑھی جانے والی احادیث کا حافظ ہے ، یا اگر وہ حافظ حدیث نہیں ہے تو اس پر پڑھی جانے والی کتاب کی اصل اس کے ہاتھ میں ہے تو یہ اہل حدیث کے نزدیک سماع کی طرح صحیح ہے ۱؎ ۔

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ أَقُولُ؟ فَقَالَ: قُلْ: "حَدَّثَنَا".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ابن جریج کہتے ہیں : میں نے عطاء بن ابی رباح پر پڑھا تو ان سے کہا کہ میں کیسے کہوں ؟ کہا : کہو «حدثنا» ہم سے ( شیخ نے ) اس حدیث کو بیان کیا ۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي عِصْمَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ نَفَرًا قَدِمُوا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ بِكِتَابٍ مِنْ كُتُبِهِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ فَيُقَدِّمُ وَيُؤَخِّرُ فَقَالَ: إِنِّي بَلِهْتُ لِهَذِهِ الْمُصِيبَةِ؛ فَاقْرَئُوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ إِقْرَارِي بِهِ كَقِرَائَتِي عَلَيْكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عکرمہ کہتے ہیں : ابن عباس کے پاس طائف کی ایک جماعت آئی جن کے ہاتھ میں ابن عباس کی کتابوں میں سے ایک کتاب تھی ، تو ابن عباس نے ان پر پڑھنا شروع کر دیا کبھی آگے سے پڑھتے اور کبھی پیچھے سے پڑھنے لگتے اور کہا : میں اس مصیبت سے عاجز ہوں ، تم مجھ پر پڑھو ، میرا اقرار ویسے ہی ہے جیسے میں تم پر پڑھوں ۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ قَالَ: إِذَا نَاوَلَ الرَّجُلُ كِتَابَهُ آخَرَ فَقَالَ: ارْوِ هَذَا عَنِّي؛ فَلَهُ أَنْ يَرْوِيَهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ منصور بن معتمر کہتے ہیں : آدمی جب کسی کو اپنی کتاب ہاتھ میں پکڑا دے اور کہے کہ یہ مجھ روایت کرو تو اس کے لیے جائز ہے کہ اس کی روایت کرے ( اس کو محدثین کی اصطلاح میں «مناولہ» کہتے ہیں ) ۔

و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَاصِمٍ النَّبِيلَ عَنْ حَدِيثٍ فَقَالَ: اقْرَأْ عَلَيَّ؛ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَقْرَأَ هُوَ فَقَالَ: أَأَنْتَ لا تُجِيزُ الْقِرَائَةَ، وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُجِيزَانِ الْقِرَائَةَ؟!.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : میں نے ابوعاصم النبیل سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : مجھ پر پڑھو ، میں نے یہ پسند کیا کہ وہ پڑھیں تو انہوں نے کہا : کیا تم قراءۃ ( شیخ پر پڑھنے ) کو جائز نہیں کہتے ، جب کہ سفیان ثوری اور مالک بن انس شیخ پر قراءۃ کو جائز کہتے تھے ! ۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ مَا قُلْتُ: "حَدَّثَنَا" فَهُوَ مَا سَمِعْتُ مَعَ النَّاسِ وَمَا قُلْتُ: "حَدَّثَنِي" فَهُوَ مَا سَمِعْتُ وَحْدِي وَمَا قُلْتُ: "أَخْبَرَنَا" فَهُوَ مَا قُرِئَ عَلَى الْعَالِمِ وَأَنَا شَاهِدٌ، وَمَا قُلْتُ: "أَخْبَرَنِي" فَهُوَ مَا قَرَأْتُ عَلَى الْعَالِمِ يَعْنِي وَأَنَا وَحْدِي.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عبداللہ بن وہب کہتے ہیں : میں نے حدیث کی روایت میں «حدثنا» کا صیغہ استعمال کیا تو اس سے مراد وہ احادیث ہیں جن کو ہم نے لوگوں کے ساتھ سنا ، اور جب میں «حدثنا» کہتا ہوں تو وہ میری تنہا مسموعات میں سے ہیں ، اور جب «أخبرنا» کہتا ہوں تو وہ عالم حدیث پر پڑھی جانے والی احادیث ہیں ، جن میں میں حاضر تھا ، اور جب میں «اخبرنی» کہتا ہوں تو وہ میری عالم حدیث پر تنہا پڑھی ہوئی روایات ہوتی ہیں ۔

وسَمِعْت أَبَا مُوسَى مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، يَقُولُ: "حَدَّثَنَا" وَ "أَخْبَرَنَا" وَاحِد.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : «حدثنا» اور «أخبرنا» دونوں ہم معنی لفظ ہیں ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَدِينِيِّ فَقُرِئَ عَلَيْهِ بَعْضُ حَدِيثِهِ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ نَقُولُ؟ فَقَالَ: قُلْ: حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : ہم ابو مصعب کے پاس تھے ، ان پر ان کی بعض احادیث کو پڑھا گیا تو میں نے ان سے کہا : ہم حدیث روایت کرتے وقت کون سا صیغہ استعمال کریں ؟ کہا : کہو : «حدثنا ابو مصعب» یعنی ہم سے ابومصعب نے حدیث بیان کی ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ أَجَازَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الإِجَازَةَ إِذَا أَجَازَ الْعَالِمُ لأَحَدٍ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ فَلَهُ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : بعض اہل علم نے اجازئہ حدیث کو جائز کہا ہے ، جب عالم حدیث کسی کو اپنی کسی حدیث کی روایت کی اجازت دے تو اس ( مستجیز ) کے لیے جائز ہے کہ وہ مجیز ( یعنی اجازئہ حدیث دینے والے شیخ ) سے روایت کرے ۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ قَالَ: كَتَبْتُ كِتَابًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ فَقُلْتُ: أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ بشیر بن نہیک کہتے ہیں : میں نے ابوہریرہ کی روایت سے ایک کتاب لکھی تو ان سے کہا کہ میں اسے آپ سے روایت کروں ؟ کہا : ہاں ، روایت کرو ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِيِّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْحَسَنِ: عِنْدِي بَعْضُ حَدِيثِكَ أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ محمد بن اسماعیل واسطی نے ہم سے بیان کیا ان سے محمد بن الحسن واسطی نے بیان کیا وہ عوف اعرابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حسن بصری سے کہا : میرے پاس آپ کی بعض احادیث ہیں ، کیا میں انہیں آپ سے روایت کروں ؟ کہا : ہاں ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ إِنَّمَا يُعْرَفُ بِمَحْبُوبِ بْنِ الْحَسَنِ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : محمد بن الحسن ” محبوب بن الحسن “ کے نام سے معروف ہیں ، ان سے کئی ائمہ نے روایت کی ہے ۔

حَدَّثَنَا الْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَيْتُ الزُّهْرِيَّ بِكِتَابٍ؛ فَقُلْتُ له: هَذَا مِنْ حَدِيثِكَ، أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں : زہری کے پاس میں ایک کتاب لے کر آیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ آپ کی احادیث ہیں ، کیا میں انہیں آپ سے روایت کروں ؟ کہا : ہاں ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ جُرَيْجٍ إِلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِكِتَابٍ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثُكَ أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : ابن جریج ، ہشام بن عروہ کے پاس ایک کتاب لے کر آئے اور ان سے کہا یہ آپ کی احادیث ہیں ، کیا میں انہیں آپ سے روایت کروں ؟ کہا : ہاں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: 3961