حدیث نمبر: 3960
فَأَمَّا مَنْ أَقَامَ الإِسْنَادَ وَحَفِظَهُ وَغَيَّرَ اللَّفْظَ؛ فَإِنَّ هَذَا وَاسِعٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا لَمْ يَتَغَيَّرْ الْمَعْنَى.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ تو جس نے سند صحیح ذکر کی اور اسے یاد رکھا ، اور الفاظ میں تبدیلی کر دی تو معنی نہ بدلنے کی صورت میں ایسا کرنے کی اہل علم کے نزدیک گنجائش ہے ۱؎ ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلائِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ قَالَ: إِذَا حَدَّثْنَاكُمْ عَلَى الْمَعْنَى؛ فَحَسْبُكُمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں : جب ہم تم سے حدیث بالمعنی روایت کر دیں تو یہ تمہارے لیے کافی ہے ۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ الْحَدِيثَ مِنْ عَشَرَةٍ؛ اللَّفْظُ مُخْتَلِفٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ محمد بن سیرین کہتے ہیں : حدیث کو میں دس مختلف سیاق سے سنتا تھا اور سب کا معنی ایک ہوتا تھا ۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَالشَّعْبِيُّ يَأْتُونَ بِالْحَدِيثِ عَلَى الْمَعَانِي.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ابن عون کہتے ہیں : ابراہیم نخعی ، حسن بصری اور شعبی بالمعنی حدیث روایت کرتے تھے ۔

وَكَانَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، وَرَجَائُ بْنُ حَيْوَةَ يُعِيدُونَ الْحَدِيثَ عَلَى حُرُوفِهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ اور قاسم بن محمد ، محمد بن سیرین اور رجاء بن حیوہ حدیث کو اس کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے تھے ۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ: إِنَّكَ تُحَدِّثُنَا بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ تُحَدِّثُنَا بِهِ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثْتَنَا؟! قَالَ: عَلَيْكَ بِالسَّمَاعِ الأَوَّلِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عاصم الأحول کہتے ہیں : میں نے ابوعثمان نہدی سے کہا کہ آپ ہم سے ایک بار حدیث بیان کرتے ہیں ، پھر دوبارہ اس کی روایت کرتے ہیں تو وہ پہلے سے مختلف ہوتی ہے ؟ عرض کیا : جو پہلی بار سنا ہے اس کو لے لو ۔

حَدَّثَنَا الجارودُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيْعٌ، عن الرَّبيعِ بن صَبيحٍ، عن الحسنِ قال: إذا أصبتَ المعنى أجزأكَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ حسن بصری کہتے ہیں : معنی اگر ٹھیک روایت کر دو تو یہ تمہارے لیے کافی ہے ۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَيْفٍ -هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ- قَال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: أَنْقِصْ مِنْ الْحَدِيثِ إِنْ شِئْتَ، وَلا تَزِدْ فِيهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ سیف بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد کو کہتے سنا : اگر چاہو تو حدیث بیان کرنے میں کمی کر دو ، لیکن اس میں زیادتی نہ کرو ۔ ( یعنی اپنی طرف سے اضافہ نہ کرو ، مختصر روایت کرو ، یا بعض فقرآت روایت کرو ) ۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فَقَالَ: إِنْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ فَلا تُصَدِّقُونِي، إِنَّمَا هُوَ الْمَعْنَى.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ سفیان ثوری کہتے ہیں : اگر میں یہ کہوں کہ میں تم سے بعینہ ویسے ہی روایت کرتا ہوں جیسے میں نے سنا ہے ، تو میری تصدیق نہ کرو ، یہ روایت بالمعنی ہے ۔

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَال: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ الْمَعْنَى وَاسِعًا فَقَدْ هَلَكَ النَّاسُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ وکیع کہتے ہیں : اگر بالمعنی روایت کی گنجائش نہ ہو تو لوگ ہلاک ہو جائیں گے ۔

قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا تَفَاضَلَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحِفْظِ وَالإِتْقَانِ وَالتَّثَبُّتِ عِنْدَ السَّمَاعِ مَعَ أَنَّهُ لَمْ يَسْلَمْ مِنْ الْخَطَإِ وَالْغَلَطِ كَبِيرُ أَحَدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ مَعَ حِفْظِهِمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : اہل علم حفظ و اتقان اور سماع حدیث کی تحقیق و تحری میں متفاوت ہیں ، قوت حفظ کے باوجود بڑے سے بڑا کوئی امام وہم و خطا اور غلطی سے بچا نہیں ہے ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: إِذَا حَدَّثْتَنِي؛ فَحَدِّثْنِي عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ؛ فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي مَرَّةً بِحَدِيثٍ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ فَمَا أَخْرَمَ مِنْهُ حَرْفًا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عمارہ بن قعقاع کہتے ہیں کہ مجھ سے ابراہیم نخعی نے کہا : جب آپ مجھ سے حدیث بیان کریں تو ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے بیان کریں ، ابوزرعہ نے ایک بار مجھ سے ایک حدیث بیان کی پھر کئی سال کے بعد میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو ایک حرف بھی نہیں چھوڑا ۔

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: قُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ: مَا لِسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ أَتَمُّ حَدِيثًا مِنْكَ؟ قَالَ: لأَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے کہا : سالم بن ابی الجعد آپ سے زیادہ بہتر طور پر کیوں احادیث روایت کرتے ہیں ؟ کہا : اس لیے کہ وہ احادیث لکھتے تھے ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُالْجَبَّارِ بْنُ الْعَلائِ بْنِ عَبْدِالْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ: إِنِّي لأُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ فَمَا أَدَعُ مِنْهُ حَرْفًا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں : میں حدیث بیان کرتا ہوں تو ایک حرف بھی نہیں چھوڑتا ۔

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَتَادَةُ: مَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ شَيْئًا قَطُّ إِلا وَعَاهُ قَلْبِي.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ قتادہ کہتے ہیں : میرے کانوں نے جو کچھ سنا وہ دل میں بیٹھ گیا ۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَنَصَّ لِلْحَدِيثِ مِنْ الزُّهْرِيِّ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عمرو بن دینار کہتے ہیں : زہری سے زیادہ میں نے کسی کو نص حدیث کی روایت کرتے نہیں دیکھا ۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ: مَا عَلِمْتُ أَحَدًا كَانَ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْدَ الزُّهْرِيِّ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ایوب سختیانی کہتے ہیں : میرے علم میں زہری کے بعد اہل مدینہ میں یحییٰ بن ابی کثیر سے بڑا حدیث کا کوئی عالم نہیں ہے ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَوْنٍ يُحَدِّثُ فَإِذَا حَدَّثْتُهُ عَنْ أَيُّوبَ بِخِلافِهِ تَرَكَهُ فَأقُولُ: قَدْ سَمِعْتُهُ؛ فَيَقُولُ: إِنَّ أَيُّوبَ أَعْلَمُنَا بِحَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ حماد بن زید کہتے ہیں : ابن عون حدیث بیان کرتے تھے ، جب میں ان کو ایوب سے اس کے خلاف روایت کرتا تو وہ اپنی روایت چھوڑ دیتے ، میں کہتا کہ آپ نے وہ حدیث سنی ہے تو عرض کرتے : ایوب سختیانی ابن سیرین کی احادیث کے ہم میں سب سے زیادہ واقف کار تھے ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بُكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: أَيُّهُمَا أَثْبَتُ: هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ أَمْ مِسْعَرٌ؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مِسْعَرٍ، كَانَ مِسْعَرٌ مِنْ أَثْبَتِ النَّاسِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کا قول ہے کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے سوال کیا : ہشام دستوائی زیادہ ثقہ اور معتبر ہیں ، یا مسعر ؟ کہا : میں نے مسعر کی طرح کسی کو نہیں دیکھا ، لوگوں میں مسعر سب سے زیادہ ثقہ اور معتبر تھے ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُالْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ قَال: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ: مَا خَالَفَنِي شُعْبَةُ فِي شَيْئٍ إِلا تَرَكْتُهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ حماد بن زید کہتے ہیں : جس حدیث میں بھی شعبہ نے میری مخالفت کی میں نے اس کو چھوڑ دیا ۔

قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدَّثَنِي أَبُوالْوَلِيدِ، قَالَ: قَالَ لِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: إِنْ أَرَدْتَ الْحَدِيثَ فَعَلَيْكَ بِشُعْبَةَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ابوالولید کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ نے کہا : اگر تمہیں حدیث چاہیئے تو شعبہ کا دامن پکڑ لو ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: مَا رَوَيْتُ عَنْ رَجُلٍ حَدِيثًا وَاحِدًا إِلا أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مَرَّةٍ، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ عَشَرَةَ أَحَادِيثَ أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ عَشْرِ مِرَارٍ، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ خَمْسِينَ حَدِيثًا أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ مِائَةً أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ، إِلا حَيَّانَ الْكُوفِيَّ الْبَارِقِيَّ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ؛ فَوَجَدْتُهُ قَدْ مَاتَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ شعبہ کہتے ہیں : میں نے جس راوی سے بھی ایک حدیث روایت کی ، اس کے پاس ایک سے زیادہ بار آیا ، اور جس سے دس حدیث روایت کی اس کے پاس دس بار سے زیادہ آیا ، اور جس سے ( ۵۰ ) حدیث روایت کی اس کے پاس پچاس بار سے زیادہ آیا ، اور جس سے سو حدیث روایت کی اس کے پاس سو بار سے زیادہ آیا ، إلا یہ کہ حیان کوفی سے میں نے یہ احادیث سنیں ، دوبارہ ان کے پاس گیا تو ان کی وفات ہو گئی تھی ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ قَال: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ: شُعْبَةُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحَدِيثِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری کو کہتے سنا : شعبہ حدیث میں امیر المؤمنین ہیں ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ شُعْبَةَ، وَلا يَعْدِلُهُ أَحَدٌ عِنْدِي، وَإِذَا خَالَفَهُ سُفْيَانُ أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان کو کہتے سنا : مجھے شعبہ سے زیادہ کوئی پسند نہیں ہے ، میرے نزدیک ان کا ہم پلہ کوئی نہیں ، جب ان کی مخالفت سفیان ثوری کرتے ہیں ، تو میں سفیان ثوری کے قول کو قبول کرتا ہوں ۔

قَالَ عَلِيٌّ: قُلْتُ لِيَحْيَى: أَيُّهُمَا كَانَ أَحْفَظَ لِلأَحَادِيثِ الطِّوَالِ سُفْيَانُ أَوْ شُعْبَةُ قَالَ: كَانَ شُعْبَةُ؟ أَمَرَّ فِيهَا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے کہا : لمبی احادیث کو سفیان ثوری زیادہ یاد رکھتے ہیں ، یا شعبہ ؟ کہا : شعبہ زیادہ یاد رکھتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: 3960