حدیث نمبر: 3958
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا حَمَلَنَا عَلَى مَا بَيَّنَّا فِي هَذَا الْكِتَابِ مِنْ قَوْلِ الْفُقَهَائِ وَعِلَلِ الْحَدِيثِ لأَنَّا سُئِلْنَا عَنْ هَذَا؛ فَلَمْ نَفْعَلْهُ زَمَانًا، ثُمَّ فَعَلْنَاهُ؛ لِمَا رَجَوْنَا فِيهِ مِنْ مَنْفَعَةِ النَّاسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ فقہاء کے اقوال اور احادیث کی علل کا تذکرہ ہم نے اپنی کتاب میں اس لیے کیا ہے کہ ان چیزوں کے بارے میں ہم سے سوال ہوا ، ہم ایک مدت تک ایسا نہیں کرتے تھے ، ہم نے اقوال فقہاء اور علل حدیث کا تذکرہ اس واسطے کیا کہ اس میں لوگوں کے فوائد کی توقع ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: 3958