حدیث نمبر: 3952
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَسْلَمُ ، وَغِفَارٌ ، وَمُزَيْنَةُ ، خَيْرٌ مِنْ تَمِيمٍ ، وَأَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ " ، يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ، قَالَ : " فَهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قبائل اسلم ، غفار اور مزینہ ، قبائل تمیم ، اسد ، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں “ ، اور آپ اس کے ساتھ اپنی آواز اونچی کر رہے تھے ، تو لوگ کہنے لگے : نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے ، آپ نے فرمایا : ” وہ ان ( قبائل یعنی تمیم ، اسد ، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ ) سے بہتر ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3952
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 6 (3515، و3516) ، والأیمان والنذور 3 (6635) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 47 (2522) ( تحفة الأشراف : 1168) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3515 | صحيح البخاري: 6635 | صحيح مسلم: 2522 | معجم صغير للطبراني: 841 | معجم صغير للطبراني: 911

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3515 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3515. حضرت ابو بکر ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تمھیں معلوم ہے کہ جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار قبائل بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: یہ قبیلے تو نقصان میں رہے۔ آپ ﷺ نےفرمایا: ’’مذکورہ قبیلے، بنوتمیم، بنو اسد، بنو عبدللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3515]
حدیث حاشیہ: جاہلیت کے زمانہ میں جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں سے کم درجہ کے سمجھے جاتے تھے۔
پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں پیش قدمی کی، اس لیے شرف فضیلت میں بنو تمیم وغیرہ قبائل سے یہ لو گ بڑھ گئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3515 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3515 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3515. حضرت ابو بکر ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تمھیں معلوم ہے کہ جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار قبائل بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: یہ قبیلے تو نقصان میں رہے۔ آپ ﷺ نےفرمایا: ’’مذکورہ قبیلے، بنوتمیم، بنو اسد، بنو عبدللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3515]
حدیث حاشیہ:
مذکور قبائل قابل تعریف اس لیے قراردیے گئے کہ انھوں نے بہت جلد اسلام قبول کرلیا اور بہترین اخلاق کے حامل تھے، نیز ان کے دل نرم اور گداز تھے۔
اس کے برعکس بنو اسد وغیرہ رسول اللہ ﷺ کے بعد طلحہ بن خویلد کے ساتھ مل کر مرتد ہوگئے تھے اور بنوتمیم بھی مدعیہ نبوت سجاح کے ساتھ مل کر دین اسلام سے پھر گئے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان قبائل کے مقابلے میں جہینہ، مزینہ، اسلم اورغفار کو بہتر قراردیاہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3515 سے ماخوذ ہے۔