سنن ترمذي
أبواب السهو— کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَىِ السَّهْوِ باب: سجدہ سہو میں تشہد پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ وَهُوَ عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَرَوَى مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ , وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍوَ ، وَيُقَالُ أَيْضًا : مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍوَ ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ , وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِطُولِهِ ، وَهُوَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ " وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّشَهُّدِ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ فِيهِمَا تَشَهُّدٌ وَتَسْلِيمٌ وَإِذَا سَجَدَهُمَا قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ ، وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق ، قَالَا : إِذَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ .´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا ، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا ، پھر سلام پھیرا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- عبد الوھاب ثقفی ، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق : «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے ، اور وہ یہی عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا ( اور اس نے پوچھا : کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے ، یا آپ بھول گئے ہیں )
۳- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا ۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ( اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 395]
نوٹ:
(حدیث میں تشہد کا تذکرہ شاذ ہے)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ بھول گئے تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1039]
اس میں سجدہ سہو کے سجدوں کے بعد تشہد پڑھنے اور پھر سلام پھیرنے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کی رو سے اس کا بھی جواز ہے۔ تاہم شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو شاذ قرار دیا ہے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر اندر چلے گئے۔ مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1018]
➊ اس حدیث میں دلیل ہے کہ سہو کے واقعات مختلف تھے۔
➋ جب فوت شدہ رکعت یا رکعات پڑھنی پڑھانی ہوں گی تو اس کے لئے تکبیر تحریمہ بھی ہو گی۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوئے اور پکارا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور لوگوں سے پوچھا، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1215]
فوائدومسائل: (1)
حدیث 1207 میں بیان ہوا ہے کہ وہ نماز ظہر کی تھی۔
صحیح بخاری کی ایک روایت سے بھی اس کی تایئد ہوتی ہے۔ (صحیح البخاري، الأذان، باب ھل یأخذ الإمام إذا شك بقول الناس، حدیث: 715)
(2)
مذکورہ بالا روایات میں مذکور ہے۔
کہ رسول اللہﷺنے چار کے بجائے دو رکعتیں ادا کیں تھیں۔
تین نہیں۔
یہ روایات زیادہ صحیح ہیں تاہم اس معمولی اختلاف کے باجود اصل مسئلہ ثابت ہے کہ بھول کررکعتیں کم پڑھی جایئں تو معلوم ہونے پر باقی نماز پڑھ کرسجدہ سہو کیا جائےگا۔
پوری نماز دہرانے کی ضرورت نہیں چاہے امام اور مقتدیوں کے درمیان گفتگو بھی ہوجائے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے (سہو کے) کیے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1237]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا: ” کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟ “ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور (جو چھوٹ گئی تھی) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے (چھوٹ جانے کے سبب) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1238]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا، تو خرباق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے تین ہی رکعت نماز پڑھی ہے، چنانچہ آپ نے انہیں وہ رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1332]
➋ ”خرباق“ کی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 1230 کا فائدہ۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ تم میں سے کسی کو جب نماز میں یہ شک ہو جائے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تین یا چار؟ تو ایسی صورت میں شک کو نظرانداز کر کے جس پر یقین ہو اس پر نماز کی بنا رکھے۔ پھر سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے۔ پس اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دو سجدے (چھٹی رکعت کے قائم مقام ہو کر) اس کی نماز کو جفت کر دیں گے۔ (چھ بنا دیں گے) اور اگر اس نے پوری نماز پڑھی ہے تو یہ دو سجدے شیطان کے لئے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 265»
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب ماجاء في التشهد في سجدتي السهو، حديث:1039، والترمذي، الصلاة، حديث:395، والحاكم:1 /323، وأعل بما لا يقدح، وألله اعلم.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک پڑ جائے تو اسے کم پر بنیاد رکھنی چاہیے۔
اس میں یقین کا امکان ہے۔
امام مالک‘ امام شافعی‘ امام احمد رحمہم اللہ اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے‘ البتہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نماز میں شک واقع ہونے کی صورت میں اسے تحری کرنی چاہیے‘ یعنی یاد کرنے کی انتہائی کوشش کرے‘ اگر گمان غالب کسی طرف ہو جائے تو اس پر عمل کرے اور اگر تحری کے باوجود دونوں اطراف مساوی نظر آئیں تو پھر کم پر بنیاد رکھے۔