سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً مِنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِالْغَابَةِ ، فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ ، فَتَسَخَّطَهُ ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ : " إِنَّ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمُ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي , ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ , فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ فِيهِ عَلَيَّ , وَايْمُ اللَّهِ لَا أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ ، أَوْ ثَقَفِيٍّ ، أَوْ دَوْسِيٍّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، عَنْ أَيُّوبَ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا ، لیکن وہ آپ سے خفا رہا ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ” عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں ، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے ، قسم اللہ کی ! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی ، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ” عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے ق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3946]
وضاحت:
نوٹ:
(سابقہ حدیث میں ایوب بن مسکین (یا ابن ابی مسکین) صدوق ہیں، لیکن صاحب اوہام ہیں، اور اس سند میں محمد بن اسحاق صدوق لیکن مدلس ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث اورسابقہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو:الصحیحة رقم: 1684)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے ارادہ کر لیا ہے تھا کہ قریشی، انصاری، ثقفی، دوسی کو چھوڑ کر کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3790]
(2) قریشی‘ انصاری‘ ثقفی‘ دوسی چونکہ آپ کے تربیت یافتہ اور آپ کی حیثیت سے واقف تھے‘ وہ آپ کو تحفہ تبرک کی غرض سے دیتے تھے‘ اس لیے آپ نے ان قبیلوں کو مستثنیٰ قراردیا ہے۔
(3) اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ اگر تحفہ دینے والہ لالچی شخص ہو اور جو عوض دیا جائے اس پر راضی نہ ہوتا ہو تو تحفہ قبول کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا ہے۔
(4) تحفہ دینے والے کو اس کے تحفے کے مقابل عوض دینا جائز ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ” فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں “، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3945]
وضاحت:
1؎:
اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3537]
فائدہ۔
در اصل بعض لوگ بہت زیادہ بدلہ لینے کی غرض سے نبی کریم ﷺ کو ہدیہ دینے لگے تھے۔
تب آپ ﷺ نے یہ عزم ظاہر فرمایا اور مذکورہ خاندانوں کے لوگ طبعا ً غنی تھے۔
اور ان میں بالمعوم طمع نہیں ہوتی تھی۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیاض ہونے کا ثبوت ملتا ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو کوئی آپ کو ہدیہ دے، اس کے بدلے میں اس سے بہتر ہدیہ دینا سنت ہے بعض لوگ ساری عمر ہدیہ لینے میں ہی رہتے ہیں اور دیتے نہیں ہیں، یہ اندا محل نظر ہے۔