حدیث نمبر: 3938
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ : " إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الْأَزْدِ ، فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` اگر ہم ازدی ( یعنی قبیلہ ازد کے ) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے، انس رضی الله عنہ قبیلہ انصار کے تھے، اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں، اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف
تخریج حدیث «(صحیح) تحفة الأحوذی (4196/10/304) کے نسخے میں یہ حدیث ہے، اور مکتبة المعارف کے نسخے اور تحفة الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یمن کی فضیلت کا بیان`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی (یعنی قبیلہ ازد کے) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3938]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے، انس رضی اللہ عنہ قبیلہ انصار کے تھے، اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں، اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔

نوٹ:
تحفة الأحوذی: (4196/10/304) کے نسخے میں یہ حدیث ہے، اور مکتبۃ المعارف کے نسخے اور تحفۃ الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3938 سے ماخوذ ہے۔