حدیث نمبر: 3937
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي عَمِّي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَزْدُ أُسْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ , وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ : يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًّا ، يَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَنَسٍ مَوْقُوفٌ وَهُوَ عِنْدَنَا أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «ازد» ( اہل یمن ) زمین میں اللہ کے شیر ہیں ، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے ، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا ، کاش ! میرا باپ ازدی ہوتا ، کاش میری ماں ! ازدیہ ہوتی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے ، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (2467) // ضعيف الجامع الصغير (2275) // , شیخ زبیر علی زئی: (3937) سنده حسن, صالح بن عبدالكبير حسن له ابن شاهين (تاريخ دمشق 248/42۔249) و روي له الضياء فى المختارة
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 919) (ضعیف) (سند میں صالح بن عبد الکریم مجہول ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یمن کی فضیلت کا بیان`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ازد» (اہل یمن) زمین میں اللہ کے شیر ہیں، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا، کاش! میرا باپ ازدی ہوتا، کاش میری ماں! ازدیہ ہوتی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3937]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں صالح بن عبد الکریم مجہول ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3937 سے ماخوذ ہے۔