سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبَ فِي فَضْلِ الْعَرَبِ باب: عربوں کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا سَلْمَانُ ، لَا تَبْغَضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَبْغَضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ ؟ قَالَ : " تَبْغَضُ الْعَرَبَ فَتَبْغَضُنِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، يَقُولُ : أَبُو ظَبْيَانَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ ، مَاتَ سَلْمَانُ قَبْلَ عَلِيٍّ .´سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلمان ! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے “، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے، آپ نے فرمایا: ” تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3927]
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں قابوس لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہے)