حدیث نمبر: 3916
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے “ ۔

وضاحت:
۱؎: مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کی بنسبت ایک لاگھ گنا ہے، مسجد نبوی میں نماز کا ثواب ایک ہزار گنا ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3916
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405)

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7335 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7335. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7335]
حدیث حاشیہ: مسجد نبوی میں مذکورہ حصہ جنت کی کیاری ہے یہاں کی نماز اور دعاؤں میں عجیب لطف ہوتا ہے۔
کما جربنا مرارا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7335 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7335 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7335. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7335]
حدیث حاشیہ:
روضہ مبارک، یعنی وہ بقعہ مقدسہ جو جنت کا باغیچہ ہے، اسی طرح جنت میں منتقلی ہو جائے گا۔
ممکن ہے وہاں کوئی نیک عمل کرنا جنت میں جانے کاسبب ہو۔
بہرحال پہلے معنی زیادہ قرین قیاس ہیں۔
اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے منبر تک کی جگہ کی عظمت کا بھی پتا چلتا ہے کیونکہ اس جگہ کو مدینہ کے باقی مقامات پر فضیلت حاصل ہے تو دنیا کے باقی مقامات پر بطریق اولیٰ فضیلت وبرتری حاصل ہوگی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7335 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1888 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1888. حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1888]
حدیث حاشیہ: گھر سے مراد حضرت عائشہ ؓ کا حجرہ ہے، جہاں آپ آرام فرما ہیں۔
ابن عساکر کی روایت میں یوں ہے کہ میری قبر اور منبر کے درمیان ایک کیاری ہے جنت کی کیاریوں میں سے۔
اور طبرانی نے ابن عمر ؓ سے نکالا اس میں بھی قبر کا لفظ ہے اللہ پاک نے آپ کو پہلے ہی سے آگاہ فرما دیا تھا کہ آپ اس حجرہ میں قیامت تک آرام فرمائیں گے۔
بیان کردہ مبارک قطعہ حقیقتاً جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔
بعض نے کہا اس کی برکت اور خوبی کی وجہ سے مجازاً ایسا کہا گیا یا اس لیے کہ وہاں عبادت کرنا خصوصی طور پر دخول جنت کا ذریعہ ہے۔
منبر کے بارے میں جو فرمایا قدرت خداوندی سے یہ بھی بعید نہیں کہ قیامت کے دن حوض کوثر پر اس منبر کو دوبارہ مہیا کرکے آپ ﷺ کے لیے رکھ دیا جائے (واللہ أعلم بمرادہ)
باب کا مقصد یہاں سکونت مدینہ کی ترغیب دلانا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1888 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1888 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1888. حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1888]
حدیث حاشیہ:
(1)
شارحین نے اس حدیث کے کئی ایک مفہوم بیان کیے ہیں جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں: ٭ رسول اللہ ﷺ کے گھر اور منبر کا درمیانی علاقہ نزول رحمت اور حصول سعادت میں جنت کے باغ کی طرح ہے۔
٭ اس میں عبادت کرنے سے انسان جنت میں پہنچ جاتا ہے۔
٭ مذکورہ مقام بعینہ جنت میں منتقل ہو جائے گا۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصد اس حدیث سے سکونت مدینہ کی ترغیب دلانا ہے کیونکہ یہ باب بلا عنوان ہے جو پہلے عنوان کا تکملہ اور تتمہ ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
اس حدیث کے آخر میں ہے: ’’میرا منبر میرے حوض پر ہو گا۔
‘‘ اکثر علماء نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ یہ دنیا والا منبر حوض کوثر پر منتقل ہو جائے گا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اسی معنی کو راجح قرار دیا ہے اگرچہ دیگر کئی معنی بھی بیان کیے گئے ہیں۔
(فتح الباري: 130/4)
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حوض کوثر کا پانی رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں نصیب کرے۔
آمین
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1888 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1196 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1196. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میرے گھر اور منبر کا درمیانی مقام جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور (قیامت کے دن) میرا منبر میرے حوض پر ہو گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1196]
حدیث حاشیہ: چونکہ آپ ﷺ اپنے گھر یعنی حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں مدفون ہیں، اس لیے حضرت امام بخاری ؓ نے اس حدیث پر ’’قبر اور منبر کے درمیان‘‘ باب منعقد فرمایا حافظ ابن حجر ؒ کی ایک روایت میں (بیت)
گھر کے بجائے قبرہی کا لفظ ہے۔
گویا عالم تقدیر میں جو کچھ ہونا تھا، اس کی آپ ﷺ نے پہلے ہی خبر دی تھی، بلا شک وشبہ یہ حصہ جنت ہی کا ہے اور عالم آخرت میں یہ جنت ہی کا ایک حصہ بن جائے گا۔
’’میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ حوض یہیں پر ہوگا۔
یا یہ کہ جہاں بھی میرا حوض کوثر ہو گا وہاں ہی یہ منبر رکھا جائے گا۔
آپ اس پر تشریف فرما ہوں گے اور اپنے دست مبارک سے مسلمانوں کو جام کوثر پلائیں گے مگر اہل بدعت کو وہاں حاضری سے روک دیا جائے گا۔
جنہوں نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے دین کا حلیہ بگاڑ دیا۔
حضور ﷺ ان کا حال معلوم فرما کر فرمائیں گے۔
سحقا لمن بدل سحقا لمن غیر دوری ہو ان کو جنہوں نے میرے بعد میرے دین کو بدل دیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1196 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1196 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1196. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میرے گھر اور منبر کا درمیانی مقام جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور (قیامت کے دن) میرا منبر میرے حوض پر ہو گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1196]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کرنے کے بعد یہ عنوان قائم کیا ہے تاکہ اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ مسجد نبوی کے بعض حصے ایک دوسرے سے افضل ہیں۔
عنوان میں قبر کا لفظ بیان کیا ہے جبکہ حدیث میں لفظ بیت ہے؟ یہ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک اسی بیت میں ہے۔
بعض روایات میں قبر کا لفظ بھی ہے لیکن یہ روایت بالمعنی ہے، چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں: حدیث کے مذکورہ الفاظ ہی صحیح ہیں، البتہ بعض راویوں نے روایت بالمعنی کے طور پر بين قبري و منبري کے الفاظ بیان کیے ہیں، حالانکہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث بیان کی تھی اس وقت آپ فوت ہوئے تھے نہ آپ کی قبر مبارک کا وجود ہی تھا۔
یہی وجہ ہے کہ جب صحابۂ کرام ؓ میں آپ کی تدفین کے متعلق اختلاف ہوا تو کسی نے بھی اس حدیث کو دلیل نہیں بنایا۔
اگر یہ الفاظ ان کے علم میں ہوتے تو اس تاریخی مسئلے میں نص صریح کا حکم رکھتے۔
(التوسل والوسیلة،ص: 74) (2)
رسول اللہ ﷺ نے اس حصے کو جنت کی کیاری قرار دیا ہے کہ نزول رحمت اور حصول سعادت کے اعتبار سے وہ حقیقی روضۂ جنت کی طرح ہے یا اس لیے کہ اس حصے میں عبادت دخول جنت کا سبب ہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے حقیقی معنی پر محمول کیا جائے کہ آخرت میں یہ ٹکڑا بعینہٖ جنت میں منتقل ہو جائے گا۔
علامہ عینی نے امام خطابی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو شخص اس حصے میں عبادت کا اہتمام کرے گا وہ جنت کے باغوں میں داخل ہو گا اور جو شخص منبر کے پاس عبادت کرے گا وہ جنت میں حوض کوثر سے سیراب کیا جائے گا۔
شارحین نے منبر کے متعلق لکھا ہے کہ بعینہٖ اسی منبر کو حوض کوثر پر لوٹا دیا جائے گا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1196 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1391 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3370]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
میرے گھرسے مراد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حجرہ مبارک ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہے، اس لیے بعض روایات میں بَیْتِیْ کی جگہ قَبْرِیْ کا لفظ آیا ہے۔
(رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ،)
کا معنی یہ ہے کہ یہ ٹکڑا جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔
اس لیے یہاں ذکر وفکر اورعبادت میں مصروف ہونا، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی جگہ کے مقابلہ میں زیادہ نزول رحمت اورحصول سعادت کا باعث ہے۔
وگرنہ عام مفہوم کے اعتبار سے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مساجد کو ریاض الجنۃ قرار دیا ہے کیونکہ ایک خالص مسلمان کے لیے ان میں عبادت، دخول جنت کا باعث ہے اور یہ معنی نہیں ہے کہ یہ فی الوقت جنت کا ٹکڑا ہے، اگرچہ بعض نے یہ بھی مراد لیا ہے کہ یہ ٹکڑا جنت سے اترا ہے، اس لیے جنت میں واپس جائے گا۔
کیونکہ دنیا ایک عارضی اورفانی جگہ ہے، اس کی کسی چیز کو دوام واستمرار حاصل نہیں ہے۔
مزید برآں جنت کی صفت تو یہ ہے کہ وہاں نہ بھوک لگے گی نہ پیاس، اور نہ دھوپ ستائے گی اور نہ بر ہنگی ہو گی، جب کہ یہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک اور پیاس لاحق ہوتی تھی اس لیے اس حدیث کو بنیاد بنا کر اور قیاس آرائیوں سے کام لیتے ہوئے اس پر اجماع کا دعوی کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ کعبہ اورعرش سے افضل ہے، اور اس کی بنا پر حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کو محض تشنیع اور کفروفسق کا نشانہ بنانا، محض سینہ زوری ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین وتابعین رحمۃ اللہ علیہم یا خیرالقرون کے کن ائمہ اور علماء نے اس کی تصریح کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ عرش وکعبہ سے افضل ہے؟ کیا ان ادوار کے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت یا پیار ہم سے کم تھا؟ 2۔
میرا منبر حوض پر ہے منبر کے قریب طہارت کا التزام وپابندی، آپ کے حضور حوض کوثر سے سیرابی کا باعث بنے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حوض پر اپنے منبر مبارک پر ہی تشریف فرما ہوں گے، دنیوی منبر کو ہی نیا وجود مل جائے تو اللہ کی قدرت کے سامنے، یہ بھی کوئی نا ممکن نہیں ہےاوریہ جنت سے نیا منبر بھی مراد ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1391 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 695 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مسجد نبوی اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے سوائے خانہ کعبہ کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ۱؎ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ کہتے ہیں: ہمیں شک نہیں کہ ابوہریرہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی بیان کرتے تھے، اسی وجہ سے ہم نے ان سے یہ وضاحت طلب نہیں کی کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا خود ان کا قول ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کیوں نہیں گفتگو کر لی کہ اگر انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے آپ کی طرف منسوب کریں، ہم اسی تردد میں تھے کہ ہم نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجالست اختیار کی، تو ہم نے اس حدیث کا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث پوچھنے میں جو ہم نے کوتاہی کی تھی دونوں کا ذکر کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: بلاشبہ میں آخری نبی ہوں، اور یہ (مسجد نبوی) آخری مسجد ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 695]
695۔ اردو حاشیہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری نبی ہیں تو آپ کی مسجد لازماً آخری مسجد ہو گی جسے کسی نبی نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہو۔ مسلمانوں کا قبلہ سب سے پہلی مسجد جسے اولین نبی نے بنایا اور مسلمانوں کا مرکز سب سے آخری مسجد ہے جسے آخری نبی نے بنایا۔ واہ رے فضیلت! اور یہ فضیلت قیامت تک رہے گی۔ [ديكهيے فوائد حديث: 692]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 695 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1190 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1190. حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری اس مسجد میں ایک نماز پڑھنا مسجد حرام کے سوا دیگر مساجد میں ایک ہزار نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1190]
حدیث حاشیہ: میری مسجد سے مسجد نبوی مراد ہے۔
حضرت امام ؒ کا اشارہ یہی ہے کہ مسجد نبوی کی زیارت کے لیے شد رحال کیا جائے اور جو وہاں جائے گا لازماً رسول کریم ﷺ وحضرات شیخین پر بھی درود وسلام کی سعادتیں اس کو حاصل ہوں گی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1190 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1190 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1190. حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری اس مسجد میں ایک نماز پڑھنا مسجد حرام کے سوا دیگر مساجد میں ایک ہزار نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1190]
حدیث حاشیہ:
(1)
میری اس مسجد سے مراد مسجد نبوی ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ کا اشارہ یہی ہے کہ مسجد نبوی کی زیارت کے لیے سفر اختیار کیا جائے۔
پھر جس شخص کو یہ سعادت نصیب ہو گی وہ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت کرے گا، نیز آپ پر درود و سلام پھر شیخین کی قبروں پر سلام پڑھنے کی سعادتیں اسے حاصل ہوں گی۔
پہلی امتوں کے کچھ لوگ کوہ طور اور حضرت یحییٰ ؑ کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے دور دراز کا سفر کر کے آتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے صرف تین زیارت گاہیں مقرر فرمائی ہیں۔
ان کے علاوہ اجمیر، سہون، بغداد یا کربلا کا سفر کرنا شرعاً صحیح نہیں۔
واللہ أعلم۔
(2)
ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: شارح بخاری ابن بطال نے لکھا ہے کہ حدیث میں ’’مسجد حرام کے علاوہ‘‘ کے الفاظ میں تین امور کا احتمال ہے: وہ یہ کہ مسجد حرام مسجد نبوی کے مساوی ہے یا اس سے افضل یا اس سے کمتر، پہلا درجہ کہ اسے مساوی قرار دیا جائے یہی راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کا افضل یا کم تر ہونا دلیل کا محتاج ہے۔
شاید انہیں وہ حدیث نہیں پہنچی جس میں وضاحت ہے کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ، مسجد نبوی میں نماز ادا کرنا ایک ہزار اور مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی پانچ سو نماز کے برابر ہے۔
اس روایت کو امام بزار نے اپنی مسند اور امام طبرانی نے اپنی معجم میں بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 87/3)
اس لیے ابن بطال کا موقف مرجوح ہے۔
امام نووی ؒ نے لکھا ہے کہ نمازی کو کوشش کے ساتھ مسجد نبوی کے اس حصے میں نماز پڑھنی چاہیے جسے خود رسول اللہ ﷺ نے تعمیر کیا تھا، کیونکہ حدیث میں مسجدي هذا کے الفاظ سے اسی طرف اشارہ مقصود ہے۔
لیکن علمائے امت کا اتفاق ہے کہ مذکورہ فضیلت موجودہ تمام توسیع شدہ مسجد کو شامل ہے۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور مبارک میں مسجد نبوی کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی، اس کی چھت کھجور کی شاخوں سے تیار کی گئی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنے تھے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3906)
جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ خیبر سے واپس آئے تو مسجد نبوی میں پہلی دفعہ توسیع کی گئی کیونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ چکی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کے عرض میں چالیس ہاتھ اور طول میں تیس ہاتھ کا اضافہ فرمایا، البتہ دیوار قبلہ پہلی حد تک ہی رہی۔
کھجور کے تنوں سے بنائے ہوئے دور نبوی کے ستون جب کھوکھلے ہو گئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے انہیں تبدیل کر دیا۔
مسجد نبوی میں توسیع کے متعلق مکمل معلومات کے لیے اطلس سیرت نبوی (ص: 160 تا 165 طبع دارالسلام)
کا مطالعہ مفید رہے گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1190 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1394 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور جہینوں کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ الاغرّ (جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تلامذہ میں سے ہیں) دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا، مسجد حرام کے سوا باقی مساجد سے ہزار نماز افضل ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (انبیاء علیہم السلام کی) آخری مسجد ہے، ابو سلمہ اور ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3376]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مسجد حرام اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز پڑھنے کا ثواب کس قدر ہے، اس کی تفصیل ہم آخر میں پیش کریں گے، پہلے صرف اس قدر بتانا مطلوب ہے کہ مرزائی حضرات کا اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ جب آخر المساجد کے بعد نئی مساجد بنانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے آخر المساجد ہونے کی منافی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر الانبیاء ہونے کے بھی منافی نہیں ہے۔
کیونکہ اس حدیث کی وضاحت (کشف الاستار عن زوائد بزار ج2 ص 56 مطبوعہ موسسۃ الرسالہ بیروت) کی حدیث سے ہو جاتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: (أَنَا خَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ، وَمَسْجِدِي خَاتَمُ مَسَاجِدِ الأَنْبِيَاءِ)
(میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں آخری مسجد ہے۔)
اس لیے یہ حدیث بھی ان کے خلاف ہے حق میں نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1394 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1394 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
آخر المساجد کا مطلب
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ رحمہ اللہ کی سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإني آخر الأنبياء و إن مسجدي آخر المساجد .»

پس بے شک میں آخری نبی ہوں اور بے شک میری مسجد آخری مسجد (جسے کسی نبی نے خود تعمیر کیا) ہے۔ [صحيح مسلم: 507/1394، دارالسلام: 3376]

آخر المساجد کی تشریح میں حافظ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی رحمہ اللہ (متوفی 656ھ) نے لکھاہے: «فربط الكلام بفاء التعليل مشعرًا بأن مسجده إنما فضّل على المساجد كلها لأنه متأخر عنها و منسو ب إلٰي نبي متأخر عن الأنبياء كلهم فى الزمان .»

پس آپ نے فاء تعلیل کے ساتھ یہ بتانے کے لئے کلام مربوط کیا کہ آپ کی مسجد اس وجہ سے تمام مساجد پر فضیلت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ان کے بعد ہے اور تمام انبیاء کے بعد آنے والے نبی آخر الزمان کی طرف نسبت رکھتی ہے۔ [المفهم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم 3/ 506 ح 1246]

قاضی عیاض المالکی اور محمد بن خلیفہ الوشتانی الابی دونوں نے اس حدیث سے یہ مراد لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد دوسری مسجدوں سے افضل ہے۔ [اكمال المعلم بفوائد مسلم 4/ 512، اكمال اكمال المعلم 4/ 509]

آخر الانبیاء کی نسبت سے آخر المساجد کا صرف یہی مطلب ہے کہ آخر مساجد الانبیاء، اس کے علاوہ دوسرا کوئی مطلب ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ایسا معنی سلف صالحین کے کسی مستند عالم سے ثابت ہے۔

. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 100 صفحہ 22 تا 47
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1404 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ۱؎، سوائے مسجد الحرام کے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1404]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا میں سب سے افضل مسجدیں تین ہیں۔
مسجد حرام جس کے اندر خانہ کعبہ ہے۔
مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ اس لئے ان تینوں مسجدوں کی زیارت کے لئے اور وہاں عبادت کی نیت سے سفر کرنا جائز اور ثواب کا کام ہے۔
ان کے علاوہ کسی بھی مقام، مسجد، مزار وغیرہ کی طرف اس نیت سے سفر کرکے جانا جائز نہیں۔
کہ وہاں عبادت کا ثواب زیادہ ہوگا۔
کیونکہ قبرستان میں تونماز پڑھنا منع ہے۔
اور دوسری تمام مساجد کا ثواب برابر ہے۔
لہٰذا سفر کا فائدہ نہیں۔
البتہ مسجد قباء کی فضیلت بھی دیگر احادیث سے ثابت ہے۔
اس لئے یہ چوتھی مسجد ہے۔
جس کی مدینے میں ہوتے ہوئے زیارت کے لئے جانا مستحب ہے۔

(2)
مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز کے برابر ہے۔
اس لئے جب مدینہ شریف جانے کا موقع ملے۔
تو زیادہ سے زیادہ نمازیں مسجد نبوی ﷺ میں باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس میں چالیس نمازیں پوری کرنے کی شرط نہیں۔

(3)
بعض روایات میں مسجد نبویﷺ میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر آیا ہے۔
مثلاً سنن ان ماجہ، حدیث: 1413۔
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1404 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 189 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´مسجد نبوی اور بیت اللہ میں نماز پڑھنے کا ثواب`
«. . . عن ابى هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صلاة فى مسجدي هذا خير من الف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام کے. . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 189]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 1190، من حديث مالك به]
تفقہ:
① تمام مسجدوں کے مقابلے میں مسجد نبوی میں ایک نماز پڑھنے پر ایک ہزار نمازوں کا ثواب ملتا ہے سوائے مسجد حرام (کعبۃ اللہ) کے، کیوںکہ مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے زیادہ ہے۔ دیکھئے: [سنن ابن ماجه 1406، و سنده صحيح]
سیدنا عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلاة فى مسجدي هذا افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا المسجد الحرام، وصلاة فى المسجد الحرام افضل من مائة صلاة فى هذا .» دوسری مسجدوں کے مقابلے میں میری اس مسجد میں نماز ہزار درجے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے اور مسجد حرام (کعبہ) میں نماز میری اس مسجد میں نماز سے سو درجے افضل ہے۔ [مسند أحمد 5/4 ح 16117، و سنده صحيح و صححه ابن حبان: 1620]
② مسجد نبوی کے مقابلے میں مسجد حرام میں نماز کا ثواب زیادہ ہے۔
③ جو لوگ کہتے ہیں کہ مدینہ مکے سے زیادہ افضل ہے، ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور بہتر یہی ہے کہ ایسے امور میں سکوت کیا جائے اور بے فائدہ کلام سے اجتناب کیا جائے۔
④ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حزوَرہ (مکہ کے ایک مقام) پر کھڑے ہوکر فرمایا: «والله! إنك لخير أرض الله وأحب أرض الله إليّ، والله! لو لا أني أخرجت منك ما خرجت .» اللہ کی قسم! تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے اور مجھے اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اللہ کی قسم! اگر مجھے تجھ سے جدا نہ کیا جاتا تو میں یہاں سے کبھی نہ نکلتا۔ [سنن ابن ماجه: 3108 وسنده صحيح، وصححه الترمذي: 3925 وابن حبان: 3700 والحاكم عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي]
⑤ بیت الله (مسجد حرام) اور مسجد نبوی دو ایسے مقام ہیں جہاں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت زیادہ ہے اور بعض روایات میں بیت المقدس کا ذکر بھی آتا ہے لیکن اپنی طرف سے گھڑ کر عوام میں یہ مشہور کرنا کہ اجمیر یا رائے ونڈ میں نماز کا ثواب زیادہ ملتا ہے، بالکل باطل اور مردود ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 186 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1195 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1195. حضرت عبداللہ بن زید مازنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے گھر اور منبر کی درمیانی جگہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1195]
حدیث حاشیہ: نیز یہی مسجد نبوی ہے جس میں ایک رکعت ہزار رکعتوں کے برابر درجہ رکھتی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری مسجد میں چالیس نمازوں کو اس طرح با جماعت ادا کیا کہ تکبیر تحریمہ فوت نہ ہوسکی، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1195 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 643 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر اور منبر کے درمیان والی جگہ کی فضیلت`
«. . . 306- وبه: عن عبد الله بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة. . . .»
. . . سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 643]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 1195، ومسلم 1390، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر (بیت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے لے کر مسجد نبوی کے منبر تک کا حصہ جنت کا حصہ ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 306 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 969 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
969- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میری اس مسجد میں نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نماز یں ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ البتہ مسجد حرام کا حکم مختلف ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:969]
فائدہ:
اس حدیث میں مسجد نبوی اور مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان ہے، مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار (1000) نماز کے ثواب کے برابر ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 968 سے ماخوذ ہے۔