حدیث نمبر: 3915
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُبَاتَةَ يُونُسُ بْنُ يَحْيَى بْنِ نُبَاتَةَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( مسجد نبوی ) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، اور یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: روضۃ الجنۃ، مسجد نبوی میں ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، پس اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3915
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح ظلال الجنة (731) ، الروض النضير (1115)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10327، 14939) (حسن صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مدینہ کی فضیلت کا بیان`
علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان (مسجد نبوی) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3915]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
روضة الجنة، مسجد نبوی میں ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، پس اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3915 سے ماخوذ ہے۔