حدیث نمبر: 3913
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الْأَنْصَارِ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: سابقہ حدیث میں «بنی اشہل» کا ذکر «بنی نجار» کے بعد آیا ہے، تو یہاں «من» کا لفظ محذوف ماننا ہو گا، یعنی: «بنی اشہل» انصار کے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (3912)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3912

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے`
جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3913]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سابقہ حدیث میں ’’بنی اشہل‘‘ کا ذکر ’’بنی نجار‘‘ کے بعد آیا ہے، تو  یہاں ’’من‘‘ کا لفظ محذوف ماننا ہو گا، یعنی: بنی اشہل انصارکے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3913 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3912 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3912]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بنی نجار ہی میں نبی اکرمﷺکے والد عبداللہ کا نانیہال تھا، یہ آپﷺ کے ماموؤں کا خاندان تھا، نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی، یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔

نوٹ:
(سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3912 سے ماخوذ ہے۔