سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْشٍ باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 3908
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا , , فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! قریش کے پہلوں کو تو نے ( قتل ، قید اور ذلت کا ) عذاب چکھایا ہے ۱؎ ، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جیسے غزوہ بدر اور فتح مکہ میں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انصار اور قریش کے فضائل کا بیان`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ! قریش کے پہلوں کو تو نے (قتل، قید اور ذلت کا) عذاب چکھایا ہے ۱؎، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3908]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ! قریش کے پہلوں کو تو نے (قتل، قید اور ذلت کا) عذاب چکھایا ہے ۱؎، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3908]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جیسے غزوۂ بدر اور فتح مکہ میں۔
وضاحت:
1؎:
جیسے غزوۂ بدر اور فتح مکہ میں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3908 سے ماخوذ ہے۔