سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فِي فَضْلِ الأَنْصَارِ وَقُرَيْشٍ باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 3905
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ۲- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اللہ کے نزدیک قریش کے مقام و مرتبہ کا ثبوت ہے، کیونکہ قریش ہی سے سب سے افضل نبی پیدا ہوئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انصار اور قریش کے فضائل کا بیان`
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3905]
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3905]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے اللہ کے نزدیک قریش کے مقام ومرتبہ کا ثبوت ہے، کیونکہ قریش ہی سے سب سے افضل نبی پیدا ہوئے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے اللہ کے نزدیک قریش کے مقام ومرتبہ کا ثبوت ہے، کیونکہ قریش ہی سے سب سے افضل نبی پیدا ہوئے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3905 سے ماخوذ ہے۔