سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں سانپ اور بچھو مارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ وَهُوَ : ابْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ "قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي رَافِعٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، وَبِهِ يَقُولُ : أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق ، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ قَتْلَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلَاةِ ، وقَالَ إِبْرَاهِيمُ : إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو نماز میں مارنے کا حکم دیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے ، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ، ۴- اور بعض اہل علم نے نماز میں سانپ اور بچھو کے مارنے کو مکروہ کہا ہے ، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نماز خود ایک شغل ہے ( اور یہ چیز اس میں مخل ہو گی ) پہلا قول ( ہی ) راجح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مارنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1204]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں دونوں کالوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو (اگر دیکھو تو) قتل کر ڈالو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 921]
یہ انسان کو ایذا دینے والے جانورہیں، اس لئے ان پر ترس کھانا انسان پر ظلم ہے۔ لہٰذا نماز کے دوران میں بھی انہیں قتل کر دیا جائے۔ خواہ اعصا یا پتھر وغیرہ ڈھونڈنے اور اس جانور کا پیچھا کرنے میں قبلہ رخ سے منحرف ہونا پڑے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس دوسری صورت میں نماز باطل ہو جائے گی اور دہرانی پڑے گی، مگر کچھ دوسرے علماء اسے نماز خوف پر قیاس کرتے ہوئے نماز کو صحیح کہتے ہیں۔ «والله اعلم»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا: سانپ کو اور بچھو کو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1245]
فوائد و مسائل:
(1)
سانپ اور بچھو کو نماز کے دوران میں مارنے کا اس لئے حکم دیا کہ یہ سخت موذی جانور ہیں اگر بھاگ گئے۔
تو ممکن ہے کہ وہ دوبارہ قابو میں نہ آئيں۔
اورکسی کو تکلیف پہنچایئں اس لئے انھیں فوری طور پر مارنے کی ضرورت ہے۔
(2)
اس طرح کے حالات میں نمازی کا اپنی جگہ چھوڑ کرچلنا اور مارنے کے لئے لکڑی وغیرہ لے آنا۔
ایک ضرورت ہے۔
اس لئے اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔
نماز جہاں چھوڑی تھی وہیں سے دوبارہ شروع کردے۔
(2)
اور بھی متعدد کام ایسے ہیں۔
جن کا کرنا نماز کے دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یا صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین سے مروی ہے۔
ان کاموں کی وجہ سے بھی نماز فاسد نہیں ہوگی۔
مثلا اشارے سے سلام کا جواب دینا، بچے کو اٹھا کر نماز پڑھنا، آگے سے گزرنے والے کو روکنا وغیرہ۔
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: اقتلوا الاسودين في الصلاة: الحية والعقرب . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ نماز میں دو سیاہ فام جانوروں سانپ اور بچھو کو مار دیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 179]
«اَلْحَيَّةَ» سانپ۔
«اَلْعَقْرَبَ» بچھو۔ دونوں «أَسْوَدَيْنِ» سے بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ «أسودين» سے مراد سانپ اور بچھو دونوں ہیں، خواہ ان کا رنگ کوئی سا بھی ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ لازماً ان کی رنگت سیاہ ہو۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ نماز کی حالت میں سانپ اور بچھو کو مارنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
➋ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان دونوں موذی جانوروں کا مارنا بھی ضروری ہے۔
➌ جمہور علماء کی یہی رائے ہے کہ نماز کے دوران میں سانپ اور بچھو کو مارنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
➍ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بعض لوگوں سے اس کی کراہت بھی نقل کی ہے مگر دلائل کی روشنی میں جمہور کا فیصلہ ہی صحیح ہے۔ دیکھیے: [جامع الترمذي، الصلاة، باب ماجاء فى قتل الأسودين فى الصلاة، حديث: 390]