حدیث نمبر: 3895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي , وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ ، مَا أَقَلَّ مَنْ رَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ ، وَرُوِيَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو ، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ اور اس کے بعد کی دونوں حدیثوں کی اس باب سے کوئی مناسبت نہیں، یہ گویا اس کتاب کی متفرق چھوٹی چھاٹی احادیث کے طور پر یہاں درج کی گئی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (285)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف بھذا التمام ( تحفة الأشراف : 16919) ، وأخرج الجملة الأخیرة ’’ إذا مات … ‘‘ کل من: صحیح البخاری/الجنائز 97 (4899) ، وسنن النسائی/الجنائز 52 (1938) ، و مسند احمد (6/180) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3895]
اردو حاشہ:
1؎: یہ اور اس کے بعدکی دونوں حدیثوں کی اس باب سے کوئی مناسبت نہیں، یہ گویا اس کتاب کی متفرق چھوٹی چھاٹی احادیث کے طورپر یہاں درج کی گئی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3895 سے ماخوذ ہے۔