حدیث نمبر: 3893
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا , فَبَكَتْ ، ثُمَّ حَدَّثَهَا , فَضَحِكَتْ ، قَالَتْ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا ، قَالَتْ : " أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ , فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں ، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پا جائیں گے ، تو ( یہ سن کر ) میں رونے لگی تھی ، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ۱؎ ، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: بعض روایات میں آیا ہے (الفتح: مناقب خدیجہ) کہ دنیا کی عورتوں کی سردار: مریم، پھر فاطمہ پھر خدیجہ، پھر آسیہ ہیں، اور حاکم کی روایت میں ہے کہ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل: خدیجہ، فاطمہ، مریم اور آسیہ ہیں، معلوم ہوا کہ یہ چاروں دنیا اور جنت دونوں میں دیگر ساری عورتوں سے افضل ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3893
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (6184) ، الصحيحة (2 / 439)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 3873 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3873

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پا جائیں گے، تو (یہ سن کر) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ۱؎، ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3893]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بعض روایات میں آیا ہے (الفتح: مناقب خدیجہ) کہ دنیاکی عورتوں کی سردار: مریم، پھر فاطمہ پھر خدیجہ، پھر آسیہ ہیں، اور حاکم کی روایت میں ہے کہ ’’جنت کی عورتوں میں سب سے افضل: خدیجہ، فاطمہ، مریم اور آسیہ ہیں‘‘، معلوم ہوا کہ یہ چاروں دنیا اورجنت دونوں میں دیگرساری عورتوں سے افضل ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3893 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3873 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فاطمہ کو بلایا، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں، پھر دوبارہ آپ نے ان سے بات کی تو وہ ہنسنے لگیں، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا کہ آپ عنقریب وفات پا جائیں گے، تو میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ میں مریم بنت عمران کو چھوڑ کر اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنسنے لگی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3873]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پچھلی حدیث اور اس حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، وہ دوسرا واقعہ اور یہ دوسرا واقعہ ہے، نیز فاطمہ رضی اللہ عنہا ہنسنے کے دونوں اسباب میں بھی تضاد نہ سمجھا جائے، دونوں باتیں خوش ہونے کی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3873 سے ماخوذ ہے۔