حدیث نمبر: 3892
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا كِنَانَةُ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ بَلَغَنِي عَنْ حَفْصَةَ , وَعَائِشَةَ كَلَامٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَلَا قُلْتِ : فَكَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ , وَأَبِي هَارُونُ , وَعَمِّي مُوسَى " ، وَكَانَ الَّذِي بَلَغَهَا أَنَّهُمْ قَالُوا : نَحْنُ أَكْرَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا ، وَقَالُوا : نَحْنُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَنَاتُ عَمِّهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَاشِمٍ الْكُوفِيِّ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، مجھے حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما کی طرف سے ایک ( تکلیف دہ ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا ؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو ، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باپ ہارون ہیں ، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں ، اس لیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں ، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں ، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3892
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد وانظر الحديث (3625) // (3807) //، الرد على الحبشي (35 - 38) , شیخ زبیر علی زئی: (3892) إسناده ضعيف, هاشم بن سعيد: ضعيف (تقدم:2448) والحديث الآتي (الأصل :3894) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15905) (ضعیف الإسناد) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان`
ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، مجھے حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما کی طرف سے ایک (تکلیف دہ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3892]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3892 سے ماخوذ ہے۔