سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فَضْلِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ ثِقَةً , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ : مَاتَتْ فُلَانَةُ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَجَدَ ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا " ، فَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .´عکرمہ کہتے ہیں کہ` فجر کے بعد ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہو گیا ، تو وہ سجدہ میں گر گئے ، ان سے پوچھا گیا : کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا : ” جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو “ ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہو سکتی ہے ؟ “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہو گیا، تو وہ سجدہ میں گر گئے، ان سے پوچھا گیا: کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ” جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو “، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہو سکتی ہے؟ “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3891]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث یا دیگراحادیث میں اس جیسے سیاق وسباق میں ’’آیۃ‘‘ کا لفظ بطورخوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے، تو ازواج مطہرات دنیامیں برکت کا سبب تھیں، ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے، اور یہ بات خوفناک ہے۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی کا انتقال ہو گیا ہے، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گر پڑے، ان سے کہا گیا: کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی (یعنی بڑا حادثہ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہو سکتی ہے؟۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1197]
کسی گھرانے یا معاشرے کا اپنے نیک اور صالح افراد سے محروم ہو جانا بہت بڑی آفت ہے، مگر کم ہی لوگوں کو اس کا احساس ہوتا ہے، بہرحال واجب ہے کہ ہر حال میں اللہ عزوجل کی طرف رجوع کیا جائے۔