حدیث نمبر: 3890
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " عَائِشَةُ " ، قِيلَ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : " أَبُوهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” عائشہ “ ، عرض کیا گیا مردوں میں ؟ آپ نے فرمایا : ” ان کے والد “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے یعنی انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3890
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح وانظر الحديث (4155)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (101) ( تحفة الأشراف : 774) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 101

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 101 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ ، عرض کیا گیا: مردوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے والد (ابوبکر) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 101]
اردو حاشہ:
اس حدیث سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی واضح ہے۔

(2)
ابوبکر اور عائشہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین افراد تھے۔
جو شخص ان سے محبت کرے گا وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہو گا اور جو بغض و عداو ت رکھے گا، وہ مبغوض ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 101 سے ماخوذ ہے۔