حدیث نمبر: 3888
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، أَنَّ رَجُلًا نَالَ مِنْ عَائِشَةَ عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَقَالَ : " أَغْرِبْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا أَتُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس عائشہ رضی الله عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا : ہٹ مردود بدتر ، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے ؟
امام ترمذی کہتے ہی : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3888
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3888) إسناده ضعيف, سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا (تقدما:107،746)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10364) (ضعیف الإسناد) (سند میں عمرو بن غالب لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان`
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس عائشہ رضی الله عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا: ہٹ مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے؟ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3888]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عمرو بن غالب لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3888 سے ماخوذ ہے۔