سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَفَضْلِهِ باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ : وحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ رَجَاءٌ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ : لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ وَيُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَسَكَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً "´معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے ، تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو ۱؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے، تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو ۱؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 388]
1؎:
یعنی: زیادہ سے زیادہ نفل نمازیں پڑھا کرو، اور ظاہر بات ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھے گا تو ان میں زیادہ سے زیادہ رکوع اور سجدے ہوں گے۔