سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فَضْلِ عَائِشَةَ رضى الله عنها باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبَاتِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقُلْنَ : يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ , وَإِنَّا نُرِيدُ الْخَيْرَ كَمَا تُرِيدُ عَائِشَةُ فَقُولِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ إِلَيْهِ أَيْنَمَا كَانَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ , فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا , فَأَعَادَتِ الْكَلَامَ , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَوَاحِبَاتِي قَدْ ذَكَرْنَ أَنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ , فَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ أَيْنَمَا كُنْتَ ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَتْ ذَلِكَ ، قَالَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ , فَإِنَّهُ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رُمَيْثَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ شَيْئًا مِنْ هَذَا ، وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَلَى رِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ ، وَقَدْ رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` لوگ اپنے ہدئیے تحفے بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن ( باری کے دن ) کی تلاش میں رہتے تھے ، تو میری سوکنیں سب ام سلمہ رضی الله عنہا کے یہاں جمع ہوئیں ، اور کہنے لگیں : ام سلمہ ! لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں ، تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں ( یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو ) وہ لوگ وہیں آپ کو ہدایا بھیجا کریں ، چنانچہ ام سلمہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ نے اعراض کیا ، اور ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ، پھر آپ ان کی طرف پلٹے تو انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی اور بولیں : میری سوکنیں کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدایا کے لیے عائشہ کی باری کی تاک میں رہتے ہیں تو آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ ہدایا بھیجا کریں ، پھر جب انہوں نے تیسری بار آپ سے یہی کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام سلمہ تم عائشہ کے سلسلہ میں مجھے نہ ستاؤ کیونکہ عائشہ کے علاوہ تم سب میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جس کے لحاف میں مجھ پر وحی اتری ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو حماد بن زید سے ، حماد نے ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، ۳- یہ حدیث ہشام بن عروہ کے طریق سے عوف بن حارث سے بھی آئی ہے جسے عوف بن حارث نے رمیثہ کے واسطہ سے ام سلمہ رضی الله عنہا سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے ، ہشام بن عروہ سے مروی یہ حدیث مختلف طریقوں سے آئی ہے ، ۴- سلیمان بن بلال نے بھی بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة» حماد بن زید کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدئیے تحفے بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن (باری کے دن) کی تلاش میں رہتے تھے، تو میری سوکنیں سب ام سلمہ رضی الله عنہا کے یہاں جمع ہوئیں، اور کہنے لگیں: ام سلمہ! لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں، تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں (یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو) وہ لوگ وہیں آپ کو ہدایا بھیجا کریں، چنانچہ ام سلمہ نے اس کا ذک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3879]
وضاحت:
1؎:
صحیح بخاری میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ کی قبولیت کی وحی کے بارے میں آیا ہے کہ یہ وحی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں نازل ہوئی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپﷺ اورام سلمہ رضی اللہ عنہا ایک ہی لحاف میں تھے، لحاف میں وحی نازل ہونے کی خصوصیت صرف عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہے، اور یہ بہت بڑی فضیلت کی بات ہے۔
جو عائشہؓ کے زمانے میں موجود تھیں، اور ان کے کپڑوں میں وحی نازل ہونے کی وجہ یہ ممکن ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت ابوبکر ؓ آنحضرت ﷺکے خاص ساتھی تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی صاحبزادی کو بھی یہ برکت دی، یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ حضرت عائشہؓ حضورﷺ کی خاص پیاری بیوی تھیں یا یہ وجہ ہو کہ وہ کپڑوں کو بہت صاف رکھتی ہوں گی۔
الغرض ذلك فضل اللہ یؤتیه من یشاء۔
دوسری حدیث میں ہے کہ پھر ان بیویوں نے حضرت فاطمہؓ سے سفارش کرائی۔
آپ نے فرمایا کہ بیٹی اگر تو مجھ کو چاہتی ہے تو عائشہؓ سے محبت کر، انہوں نے کہا اب میں اس بارے میں کوئی دخل نہ دوں گی۔
قسطلانی اور کرمانی نے کہا ہے کہ احادیث کی گنتی کی روسے اس مقام پر صحیح بخاری کا نصف اول پورا ہوجاتاہے۔
گو پاروں کے لحاظ سے پندرہویں پارہ پر نصف اول پورا ہوتا ہے۔
1۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ سب ازواج مطہراتؓ سے افضل ہیں۔
چونکہ حضرت خدیجہؓ اس سے پہلے فوت ہوچکی تھیں، لہذا وہ اس خطاب میں شامل نہیں۔
2۔
بعض حضرات نے حدیث میں مذکور اختصاص کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کپڑوں کی صفائی میں ایک خاص ذوق رکھتی تھیں اورنظافت فرشتوں کو پسند ہے۔
اس لیے آپ کے بستر میں وحی نازل ہوئی تھی۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دیگر ازواج النبیﷺ صفائی کا خیال نہ رکھتی تھیں بلکہ وہ بھی صفائی ستھرائی کے اعلیٰ معیار پر فائز تھیں، لیکن حضرت عائشہؓ سب سے بڑھ کرتھیں۔
بہرحال امام بخاری ؒ نے فضیلت عائشہؓ کے متعلق کافی مواد جمع کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر دے۔
(فتح الباري: 137/7) (آمین)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے ام سلمہ! مجھے عائشہ کے تعلق سے ایذا نہ دو، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی عورت تم میں سے ایسی نہیں ہے جس کے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3401]