سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فَضْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ باب: فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ , فَسُئِلَتْ : أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " فَاطِمَةُ " ، فَقِيلَ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَتْ : " زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، قَالَ : وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ : دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا .´جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ` میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا : لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ تو انہوں نے کہا : فاطمہ ، پھر پوچھا گیا : مردوں میں کون تھا ؟ انہوں نے کہا : ان کے شوہر ، یعنی علی ، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ابوجحاف کا نام داود بن ابی عوف ہے ، اور سفیان ثوری سے «عن ابی الجحاف» کے بجائے یوں مروی ہے : «حدثنا أبو الجحاف وكان مرضيا» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا: لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو انہوں نے کہا: فاطمہ، پھر پوچھا گیا: مردوں میں کون تھا؟ انہوں نے کہا: ان کے شوہر، یعنی علی، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3874]
نوٹ:
(سند میں ابوالجحاف داؤد بن عوف دونوں شیعہ ہیں، اور روایت میں شیعیت موجود ہے)