حدیث نمبر: 3874
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ , فَسُئِلَتْ : أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " فَاطِمَةُ " ، فَقِيلَ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَتْ : " زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، قَالَ : وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ : دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ` میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا : لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ تو انہوں نے کہا : فاطمہ ، پھر پوچھا گیا : مردوں میں کون تھا ؟ انہوں نے کہا : ان کے شوہر ، یعنی علی ، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ابوجحاف کا نام داود بن ابی عوف ہے ، اور سفیان ثوری سے «عن ابی الجحاف» کے بجائے یوں مروی ہے : «حدثنا أبو الجحاف وكان مرضيا» ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3874
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر نقد الكتاني ص (20) , شیخ زبیر علی زئی: (3874) إسناده ضعيف, جميع بن عمير: ضعيف (تقدم:3670)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 16054) (منکر) (سند میں ابو الجحاف داود بن عوف دونوں شیعہ ہیں، اور روایت میں شیعیت موجود ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان`
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا: لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو انہوں نے کہا: فاطمہ، پھر پوچھا گیا: مردوں میں کون تھا؟ انہوں نے کہا: ان کے شوہر، یعنی علی، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3874]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوالجحاف داؤد بن عوف دونوں شیعہ ہیں، اور روایت میں شیعیت موجود ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3874 سے ماخوذ ہے۔