حدیث نمبر: 3868
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " كَانَ أَحَبَّ النِّسَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةُ ، وَمِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ " . قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ رضی الله عنہ تھیں اور مردوں میں علی رضی الله عنہ تھے ، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں : یعنی اپنے اہل بیت میں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3868
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر نقد الكتاني (29) , شیخ زبیر علی زئی: (3868) إسناده ضعيف, عبدالله بن عطاء مدلس وعنعن (طبقات المدلسين :1/16 وهو من الثالثه، وانظر التقريب:3479)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1981) (منکر) (سند میں عبد اللہ بن عطاء روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اور جعفر بن زیاد الاحمر شیعی ہے، اور روایت میں تشیع ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان`
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ رضی الله عنہ تھیں اور مردوں میں علی رضی الله عنہ تھے، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: یعنی اپنے اہل بیت میں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3868]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبد اللہ بن عطاء روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اور جعفر بن زیاد الاحمر شیعی ہے، اور روایت میں تشیع ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3868 سے ماخوذ ہے۔