سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 3863
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے ) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے ، سوائے سرخ اونٹ والے کے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جد بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کر لو تو اس نے کہا: میرا اونٹ مجھے مل جائے، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے (مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3863]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3863]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جدّ بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کر لو تو اس نے کہا: میرا اونٹ مجھے مل جائے، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔
(مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے)
نوٹ:
(سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جدّ بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کر لو تو اس نے کہا: میرا اونٹ مجھے مل جائے، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔
(مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے)
نوٹ:
(سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3863 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3860 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3860]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3860]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: جس درخت کے نیچے بیعت ہوئی تھی یہ ایک کیکر کا درخت تھا اور اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، یہ 6 ھ میں مقام حدیبیہ میں ہوئی، اس میں تقریبا تیرہ سو صحابہ شامل تھے۔
ایسے لوگوں کے منہ خاک آلود اور ان کی عاقبت برباد ہو جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بکواس کرتے اور اُن پر تہمتیں دھرتے ہیں، ہماری اس بددُعا کی تائید کے لیے اگلی احادیث پڑھ لیجئے۔
وضاحت: 1؎: جس درخت کے نیچے بیعت ہوئی تھی یہ ایک کیکر کا درخت تھا اور اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، یہ 6 ھ میں مقام حدیبیہ میں ہوئی، اس میں تقریبا تیرہ سو صحابہ شامل تھے۔
ایسے لوگوں کے منہ خاک آلود اور ان کی عاقبت برباد ہو جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بکواس کرتے اور اُن پر تہمتیں دھرتے ہیں، ہماری اس بددُعا کی تائید کے لیے اگلی احادیث پڑھ لیجئے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3860 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4653 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خلفاء کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4653]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4653]
فوائد ومسائل:
سن6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر حضرت عثمان کے قتل کیے جانے کی افواہ پر صحابہ رضی اللہ عنہ سے جو بیعت لی گئی تھی، وہ کیکر کے درخت کے نیچے ہوئی تھی۔
حدیث میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
اللہ نے خود اس درخت کا ذکر فرما کر بیعت کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:(رضِيَ اللہ عنهم و رضوا عنه) اس لیےاسے بیعت رضوان کا نام دیا گیا ہے۔
اس میں صحابہ کی تعداد چودہ پندرہ سو تھی۔
(صحيح البخاري، المغازي، حديث:٤١٥٣)
سن6 ہجری میں حدیبیہ کے مقام پر حضرت عثمان کے قتل کیے جانے کی افواہ پر صحابہ رضی اللہ عنہ سے جو بیعت لی گئی تھی، وہ کیکر کے درخت کے نیچے ہوئی تھی۔
حدیث میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
اللہ نے خود اس درخت کا ذکر فرما کر بیعت کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:(رضِيَ اللہ عنهم و رضوا عنه) اس لیےاسے بیعت رضوان کا نام دیا گیا ہے۔
اس میں صحابہ کی تعداد چودہ پندرہ سو تھی۔
(صحيح البخاري، المغازي، حديث:٤١٥٣)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4653 سے ماخوذ ہے۔