حدیث نمبر: 3843
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ : لَمَّا عَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ ، عَنْ حِمْصَ وَلَّى مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ النَّاسُ : عَزَلَ عُمَيْرًا وَوَلَّى مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ عُمَيْرٌ : لَا تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، قَالَ : وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ يُضَعَّفُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ` جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا : انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا ، تو عمیر نے کہا : تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : «اللهم اهد به» ” اے اللہ ! ان کے ذریعہ ہدایت دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3843
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (3842) , شیخ زبیر علی زئی: (3843) إسناده ضعيف جدًا, عمرو بن واقد متروك (تقدم: 2340) والحديث السابق(الأصل:3842) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10892) (صحیح) (سند میں عمرو بن واقد ضعیف ہے، اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان`
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3843]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عمرو بن واقد ضعیف ہے، اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3843 سے ماخوذ ہے۔