سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رضى الله عنه باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا : ” اے اللہ ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے ، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اور یہ دعا آپ کی ان دعاؤں میں سے نہیں ہے جو قبول نہیں ہوئیں تھیں، یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، ثابت ہوا کہ معاویہ رضی الله عنہ خود ہدایت پر تھے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا معیار تھے، «رضی الله عنہ» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان`
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ” اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3842]
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ” اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3842]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور یہ دعا آپﷺ کی ان دعاؤں میں سے نہیں ہے جو قبول نہیں ہوئیں تھیں، یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، ثابت ہوا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خود ہدایت پر تھے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا معیار تھے، رضی اللہ عنہ۔
وضاحت:
1؎:
اور یہ دعا آپﷺ کی ان دعاؤں میں سے نہیں ہے جو قبول نہیں ہوئیں تھیں، یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، ثابت ہوا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خود ہدایت پر تھے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا معیار تھے، رضی اللہ عنہ۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3842 سے ماخوذ ہے۔