حدیث نمبر: 3841
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں ، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: لکھ لینے کے باوجود عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی روایات ابوہریرہ رضی الله عنہ سے زیادہ نہیں ہیں، یہ صرف ان کا گمان تھا کہ لکھ دینے کی وجہ سے زیادہ ہوں گی، نیز اس روایت میں یہ بات بھی ہے کہ عہد نبوی میں بھی لوگ احادیث رسول لکھا کرتے تھے، خود ابوہریرہ رضی الله عنہ کے پاس بعد میں تحریری شکل میں احادیث کا مجموعہ ہو گیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے علم حدیث کے سیکھنے سکھانے کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا تھا، جب سے مدینہ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دن رات رہ کر احادیث کا علم حاصل کیا، بعد میں ۵۷ھ سے ۵۸ھ تک اسی کے نشر و اشاعت میں مدینۃ الرسول اور مسجد رسول میں بیٹھ کر مشغول رہے، جب کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما نے مدینہ چھوڑ کر طائف کی سکونت اختیار کر لی، اور شاید اسی وجہ سے آپ کی احادیث ہم تک نہیں پہنچ سکیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3841
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 2668) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3841]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
لکھ لینے کے باوجود عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی روایات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ نہیں ہیں، یہ صرف ان کا گمان تھا کہ لکھ لینے کی وجہ سے زیادہ ہونگی، نیز اس روایت میں یہ بات بھی ہے کہ عہد نبوی میں بھی لوگ احادیث رسول لکھا کرتے تھے، خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بعد میں تحریری شکل میں احادیث کا مجموعہ ہو گیا تھا۔
یہ بھی واضح رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے علم حدیث کے سیکھنے سکھانے کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا تھا، جب سے مدینہ آئے، رسول اکرمﷺکے ساتھ دن رات رہ کر احادیث کا علم حاصل کیا، بعد میں 57ھ سے 58ھ تک اسی کے نشرواشاعت میں مدینۃ الرسول اور مسجد رسول میں بیٹھ کر مشغول رہے، جب کہ عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہما نے مدینہ چھوڑ کر طائف کی سکونت اختیار کر لی، اور شاید اسی وجہ سے آپ کی احادیث ہم تک نہیں پہنچ سکیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3841 سے ماخوذ ہے۔