حدیث نمبر: 3840
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : لِمَ كُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي ؟ قُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأَهَابُكَ ، قَالَ : " كُنْتُ أَرْعَى غَنَمَ أَهْلِي وَكَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ , فَكُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ ، فَإِذَا كَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي , فَلَعِبْتُ بِهَا , فَكَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا : آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ قسم اللہ کی ! میں آپ سے ڈرتا ہوں ، پھر انہوں نے کہا : میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا ، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا ، اور اس سے کھیلتا ، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3840
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 13560) (حسن الإسناد)»