سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنْ الاِخْتِصَارِ، فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الِاخْتِصَارَ فِي الصَّلَاةِ ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا ، وَالِاخْتِصَارُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى خَاصِرَتِهِ فِي الصَّلَاةِ أَوْ يَضَعَ يَدَيْهِ جَمِيعًا عَلَى خَاصِرَتَيْهِ ، وَيُرْوَى أَنَّ إِبْلِيسَ إِذَا مَشَى مَشَى مُخْتَصِرًا .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے ، ۳- بعض اہل علم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے ، اور بعض نے آدمی کے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلنے کو مکروہ کہا ہے ، اور اختصار یہ ہے کہ آدمی نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھے ، یا اپنے دونوں ہاتھ اپنی کوکھوں پر رکھے ۔ اور روایت کی جاتی ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 383]
1؎:
یہ ممانعت اس لیے ہے کہ یہ تکبر کی علامت ہے جب کہ نماز اللہ کے حضور عجز و نیاز مندی کے اظہار کا نام ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 891]
➋ «تخصر» کے یہ معنی جمہور اہل علم کے نزدیک ہیں۔ بعض نے اس سے، سہارے کے لیے ہاتھ میں چھڑی پکڑنا، یا سورت کا کچھ حصہ پڑھنا، یا رکوع اور سجدہ مکمل نہ کرنا مراد لیا ہے مگر یہ معانی مرجوح ہیں، نیز یہ آئندہ حدیث کے منافی ہیں۔
احادیث میں اس حکم امتناعی کی چند وجوہات بیان ہوئی ہیں: ٭ ایسا کرنا تکبر کی علامت ہے۔
٭ یہود اکثر ایسا کرتے ہیں، ان سے مشابہت کی بنا پر روکا گیا ہے۔
٭ ابلیس کو اس حالت میں آسمان سے اتارا گیا تھا۔
٭ اہل جہنم آرام کے وقت ایسا کریں گے، اس لیے دوران نماز ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔
میں نے دوران نماز اپنا ہاتھ کوکھ پر رکھ لیا۔
جب نماز سے فارغ ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ تو نماز میں صلیب کی وضع اختیار کرنا ہے، رسول اللہ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 903، و فتح الباري: 116/3)
حکمت اس میں یہ ہے کہ ابلیس اسی حالت میں آسمان سے اتاراگیا اور یہود اکثر ایسا کیا کرتے تھے یا دوزخی اسی طرح راحت لیں گے۔
اس لیے اس سے منع کیا گیا، یہ متکبروں کی بھی علامت ہے۔
سے کیا مراد ہے؟ اس کے بارے میں علمائےدین میں اختلاف ہے، اکثر کے نزدیک اور راجح معنی یہی ہے کہ کوکھ پر ہاتھ رکھنا نماز میں جائز نہیں ہے، علامہ ہروی نے کہا، اختصار یہ ہے کہ مکمل سورت نہ پڑھے شروع یا آخر سے دوچار آیات پڑھ لے یا قراءت جلد جلد کرے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول قراءت کرتے وقت درمیان سے سجدہ والی آیت چھوڑ دے، علامہ خطابی کے نزدیک، نمازمیں عصا (لاٹھی)
کا سہارا لینا مراد ہے اور بعض کے نزدیک ارکان نماز یعنی قیام، رکوع اور سجدہ میں اعتدال نہ کرنا مراد ہے۔
2۔
اختصار کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی حکمت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔
1۔
ابلیس کو جنت سے اس حالت میں اتارا گیا۔
2۔
ابلیس اسی حالت میں چلتا ہے۔
3۔
یہ یہودیوں کا طرز عمل ہے۔
4۔
دوزخی اس طرح آرام کرتےہیں۔
5۔
یہ فخرو گھمنڈ کرنے والوں کا رویہ ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تیسری صورت مروی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں «الاختصار» سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «الاختصار» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 947]
اہل لغت نے «اختصار» کے دو تین معانی ذکر کیے ہیں۔ ایک یہ کہ لاٹھی کا سہارا لے کر کھڑے ہونا، دوسرے صورت قرآن کو مختصر کرتے ہوئے آخر سے پڑھنا یا نماز کے ارکان کو ازحد مختصر (چھوٹا) کر دینا، تو امام صاحب نے اس کا معنی متعین فرما دیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ مذید دیکھیے: [باب۔ 155۔ 156۔ حديث903]
«. . . عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن يصلي الرجل مختصرا. متفق عليه . واللفظ لمسلم، ومعناه أن يجعل يده على خاصرته. وفي البخاري عن عائشة رضي الله عنها:« أن ذلك فعل اليهود» . . . .»
". . . ´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو نماز میں اپنے دونوں کولہوں (پہلووں) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری و مسلم) الفاظ حدیث مسلم کے ہیں اور بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ یہودیوں کی نماز کا طریقہ ہے۔ . . ." [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب الحث على الخشوع في الصلاة: 187]
«بَابُ الْحَثِّ» «حَثَّ يَحُثُّ حَثًّا» ، ترغیب دلانا، ہمت دلانا، نشاط اور چستی پیدا کرنا، اُبھارنا۔
«اَلْخُشُوع» ظاہری اور باطنی عاجزی، یعنی تمام اعضائے انسانی آنکھ، دل، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کی ہر قسم کی حرکت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہو۔
«مُخْتَصِرًا» اختصار سے اسم فاعل ہے۔ اس کی تفسیر خود مصنف نے بیان کی ہے، یعنی کوکھوں (پہلوؤں) پر اپنا ہاتھ رکھنا۔ «خاصرة» انسان کے جسم کے اس حصے کو کہتے ہیں جو سرین کے اوپر اور پسلیوں کے نیچے ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ نماز چونکہ خالص اللہ کے لیے پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ ادا کرنی چاہیے، لہٰذا اس دوران میں ایسی ہیئت، حرکت اور فعل سرزد نہیں ہونا چاہیے جو نماز کے اس وصف کے منافی ہو۔ دست بستہ کھڑا ہونا ہی ادب ہے۔
➋ پہلو پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہونا متکبرانہ فعل ہے جو عجز و انکسار کے خلاف ہے۔ نماز میں تو عجز و انکسار، فروتنی اور مسکین کی سی صورت وہیئت ہونی چاہیے جو اللہ کو پسند ہے۔
➌ تکبر و نخوت کی حالت ناپسندیدہ ہے، اس لیے نماز میں "اختصار" (کوکھوں پر ہاتھ رکھنے) کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، نیز یہ ہیئت یہود کی ہے، اس لیے ان کے ساتھ مشابہت سے اجتناب بھی ضروری ہے۔