سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى الله عنه باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3828
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : رُبَّمَا قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ " ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : يَعْنِي يُمَازِحُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے : ” اے دو کانوں والے “ ۔ ابواسامہ کہتے ہیں : یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3828
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1992 | سنن ابي داود: 5002
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: ” اے دو کانوں والے۔“ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3828]
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: ” اے دو کانوں والے۔“ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3828]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3828 سے ماخوذ ہے۔