حدیث نمبر: 382
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : غُلَامٌ لَنَا يُقَالُ لَهُ رَبَاحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ ، وَمَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي النَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنْ نَفَخَ فِي الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ الصَّلَاةَ ، وَهُوَ قَوْلُ سفيان الثوري وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : يُكْرَهُ النَّفْخُ فِي الصَّلَاةِ وَإِنْ نَفَخَ فِي صَلَاتِهِ لَمْ تَفْسُدْ صَلَاتُهُ ، وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے حماد بن زید نے` میمون ابی حمزہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اور اس میں «غلام لنا يقال له رباح» ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث کی سند کچھ زیادہ قوی نہیں ، میمون ابوحمزہ کو بعض اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے ، ۲- اور نماز میں پھونک مارنے کے سلسلہ میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے ، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں پھونک مارے تو وہ نماز دوبارہ پڑھے ، یہی قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ نماز میں پھونک مارنا مکروہ ہے ، اور اگر کسی نے اپنی نماز میں پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز فاسد نہ ہو گی ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا قول ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 382
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (ضعیف)»