سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رضى الله عنه باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَبَلَةُ بْنُ حَارِثَةَ أَخُو زَيْدٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا ، قَالَ : " هُوَ ذَا ، قَالَ : فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ " ، قَالَ زَيْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَا أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَأْيَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الرُّومِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ .´زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھائی جبلہ بن حارثہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا “ ، یہ سن کر زید نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کر سکتا ، جبلہ کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں ، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں ۔