سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رضى الله عنه باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3814
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " مَا كُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَتْ : ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله»” تم متبنی ( لے پالک ) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو ، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے “ ( الاحزاب : ۵ ) ، نازل ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ” تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے “ (الاحزاب: ۵)، نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3814]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ” تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے “ (الاحزاب: ۵)، نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3814]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے (الأحزاب:5)
وضاحت:
1؎:
تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے (الأحزاب:5)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3814 سے ماخوذ ہے۔