سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّفْخِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں پھونک مارنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَنَا يُقَالُ لَهُ أَفْلَحُ ، إِذَا سَجَدَ نَفَخَ ، فَقَالَ : " يَا أَفْلَحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ " قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : وَكَرِهَ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ النَّفْخَ فِي الصَّلَاةِ ، وَقَالَ : إِنْ نَفَخَ لَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : وَبِهِ نَأْخُذُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ مَوْلًى لَنَا يُقَالُ لَهُ رَبَاحٌ .´ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ( گھر کے ) ایک لڑکے کو دیکھا جسے افلح کہا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” افلح ! اپنے چہرے کو گرد آلودہ کر “ ۱؎ ۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ عباد بن العوام نے نماز میں پھونک مارنے کو مکروہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی نے پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز باطل نہ ہو گی ۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ اسی کو ہم بھی اختیار کرتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کو بعض دیگر لوگوں نے ابوحمزہ کے واسطہ سے روایت کی ہے ۔ اور «غلاما لنا يقال له أفلح» کے بجائے «مولى لنا يقال له رباح» ( ہمارے مولیٰ کو جسے رباح کہا جاتا تھا ) کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے (گھر کے) ایک لڑکے کو دیکھا جسے افلح کہا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ہے، تو آپ نے فرمایا: " افلح! اپنے چہرے کو گرد آلودہ کر " ۱؎۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ عباد بن العوام نے نماز میں پھونک مارنے کو مکروہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی نے پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز باطل نہ ہو گی۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ اسی کو ہم بھی اختیار کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 381]
1؎:
کیونکہ تواضع سے یہی زیادہ قریب تر ہے۔
نوٹ:
(سند میں میمون ابو حمزہ القصاب ضعیف ہیں)