سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنه باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ ، وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ مَسْعُودٍ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ، وَأَبُو الزَّعْرَاءِ اسْمُهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ ، وَأَبُو الزَّعْرَاءِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ , وَالثَّوْرِيُّ , وَابْنُ عُيَيْنَةَ اسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي الْأَحْوَصِ صَاحِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ .´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی ، اور عمار کی روش پر چلو ، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں ، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں ، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے ، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے ، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد (وصیت) کو مضبوطی سے تھامے رہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3805]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث کے اوّل وآخر ٹکڑے میں خلافت صدیقی وفاروقی کی طرف اشارہ ہے، ابوبکروعمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء سے مراد نبی اکرمﷺ کے بعد بالترتیب ان دونوں کی خلافت ہے، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وصیت سے مراد بھی یہی ہے کہ انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی تائید کی تھی، یہی مراد ہے، ان کی وصیت مضبوطی سے تھامنے سے۔